spot_img

Columns

Columns

News

Pakistan named among Trump’s ‘Board of Peace’, reshaping Gaza diplomacy

Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.

گوادر کی ترقی میں اہم سنگِ میل، ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد

گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور

EU and India seal historic trade deal after two decades of talks

After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.

Tirah evacuation exposed: KP government letter contradicts claims of military-led displacement

An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.

No decision on Pakistan joining Gaza stabilisation force, parliament to decide, security sources

Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Op-Edکیا میں غدار ہوں؟
spot_img

کیا میں غدار ہوں؟

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

میں بتاتا چلوں کہ میں ایک محب وطن پاکستانی شہری ہوں مجھے آیئن قانون اور جمہوریت کی بالادستی عوام کے حق حکمرانی کی بات کرنے آزادی صحافت پر بات کرنے آزاد عدلیہ کی بات کرنے کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے کے خلاف بات کرنے کے جرم میں ملک دشمن غدار اس وقت قرار دیا گیا جب میرے خلاف ایف آئی اے میں درخواست دی گئی۔

مجھے جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسیٰ قاضی فائز عیسی جسٹس شوکت عزیز صدیقی مطیع اللہ جان سمیت میاں نوازشریف کے حق میں بولنے کے جرم میں ایف آئی اے میں طلبی کا نوٹس جاری ہوا یہ نوٹس 25/1/2021 کو ہوا 29/1/2021 کو پیش ہونے کا کہا گیا مگر یہ نوٹس مجھے میرے وٹس ایپ پر پیشی گزرنے کے 13 دن بعد دس فروری کو موصول ہوا پیشی کی تاریخ گزرنے پر وکلاء سے مشاورت کی تو مجھے دوسرے نوٹس کے لیے انتظار کرنے کا کہا گیا! مگر مجھے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا اس دوران کارروائی ہوتی رہی اور مجھے بے خبر رکھا گیا جب عدالت سے کیس کی نقول حاصل کی گئی تو فائل میں لگے طلبی کے لاتعداد نوٹسز دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کس طرح کارروائی ڈال کر میرے کیس کی فائل کا پیٹ بھرا جاتا رہا۔

۲۵ جون کومجھے ایک کال آئی جس میں مجھے بتایا گیا کہ آپکے خلاف ایف آئی اے میں کیس ہے جس کے سلسلہ میں مجھے 29 جون کو سول جج ویسٹ اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہونا ہوگا ورنہ وارنٹ گرفتاری جاری ہونگے اور آپ کو گرفتار کیا جائے گا جس کے بعد میرے وٹس ایپ پر عدالتی نوٹس بھیج دیا گیا۔

عدالت میں 29 جون کو پیش ہونے تک مجھے یہ بلکل معلوم نہیں تھا کہ میرے خلاف کیس کیا ہے عدالت میں پیش ہونے کے بعد فائل کی مصدقہ نقول حاصل کیں تو پتہ چلا کہ میرے ٹویٹر اکاؤنٹ سے دس ایسے ٹویٹ ہوئے ہیں جس سے ملکی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں کیس میں عدالت اور ایف آئی اے کو بتایا گیا ہے کہ صابر ہاشمی ملک دشمن ہے غدار ہے اسے جلد از جلد گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے جب کیس کی فائل دیکھی تو پہلی ٹویٹ میاں نوازشریف کی تقریر کی وہ ویڈیو تھی جو انہوں نے الیکشن کے سلسلے میں صادق آباد جلسے میں کی تھی جس میں انہوں نے خلائی مخلوق کا نام متعارف کروایا تھا دوسری ٹویٹ بلاول بھٹو زرداری کی اسمبلی کے فلور پر تقریر کی ویڈیو تھی جس میں وہ عمران خان کی سیاست کو آئی ایس آئی کے سربراہ سے جوڑ رہے تھے چوتھی ٹویٹ سرینا عیسیٰ کے سوالات پر مبنی تھی جو انہوں نے سپریم کورٹ میں۔

پوچھے تھے پانچویں ٹویٹ مطیع اللہ جان کے اغواء کے سلسلے میں تھی چھٹی ٹویٹ کلبھوشن یادیو کو اپیل کےحق کیلئے جاری ہونے والے آرڈیننس پر تھی ساتویں ٹویٹ 25 جولائی 2018 کے الیکشن کو سلیکشن ڈے کہنے پر تھی آٹھویں ٹویٹ عاصم سلیم باجوہ سے رسیدیں مانگنے کے لئے تھی نویں ٹویٹ بھی عاصم سلیم باجوہ سے حساب مانگنے پر تھی دسویں ٹویٹ اپنی پارٹی لیڈر شپ کی خلائی مخلوق کے متعلق راناثنااللہ کے بیان کو لیکر تنقید پر مبنی تھی! مزید تفصیل میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے حق میں لکھنے کو بھی کارروائی کا حصہ بنایا گیا۔

میں 29 جولائی کو پھر سول عدالت میں پیش ہوا تو مجھے کہا گیا 50 ہزار کے ضمانتی مچلکے جمع کروایئں اور پھر کیس کی باقاعدہ سماعت ہوگی اور ساتھ ہی کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں رہنمائی کے لیے بھیج دیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ کیس سول جج ایڈیشنل سیشن جج یا سائبر کرائم کے جج صاحب سنیں گے۔

اب مجھے 16 ستمبر کو ضمانتی مچلکے جمع کروانے ہیں جن کے آرڈر ملے ہیں جس میں 50 ہزار کی بجائے 20 ہزار کے مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے! اسی دوران ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہوگی اور وہاں پر پیش ہونے کے لیے نوٹس کا انتظار ہے۔


The contributor, Sabir Hashmi, is a political activist and democratic thinker.

Reach out to him @SabirMehmood26.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: