spot_img

Columns

Columns

News

Pakistan did what many thought impossible as Islamabad MoU enters implementation

Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیئے

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔ اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔

Pakistan-brokered Islamabad MoU takes effect after US and Iran sign accord

Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.

Vance says Pakistan and Qatar shaped US-Iran deal rollout

JD Vance says Pakistan and Qatar helped mediate the US-Iran agreement and asked Washington to delay releasing the full text briefly, with publication expected by Friday.

Mbappé double drives France past Senegal in World Cup opener

Kylian Mbappé scored twice as France beat Senegal 3-1 in their World Cup Group I opener, with Bradley Barcola also on target after Senegal missed big first-half chances.
Op-Ed⁨مسلم لیگ ن کی موجودہ سیاسی صورتحال⁩
spot_img

⁨مسلم لیگ ن کی موجودہ سیاسی صورتحال⁩

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن کے پاس دو آپشن ہیں مزاحمتی سیاست یا مفاہمتی سیایست۔

حقیقی مزاحمتی سیاست تب ممکن ہوسکے گی جب میاں نواز شریف پاکستان آئینگے اگر وہ پاکستان آتے ہیں تو خطرہ ہے کہ وہ گرفتار ہو کر جیل چلے جائیں گے تو پھر کیا مزاحمتی بیانیہ اکیلی مریم نواز آگے لیکر چل سکتی ہیں؟ سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو اس حد تک تو شاید یہ ممکن نظر آتا ہے البتہ عملی طور پر ایسا ہونا آسان نہیں ہوگا۔

مزاحمتی سیاست کیلئے پہلے جماعت کو منظم کرنا ہوگا جمہوری اقدار کے تحت تنظیم سازی کرنا ہوگی اور اسے فعال بنانا ہوگا غیر فعال شدہ تنظیم کے ساتھ مزاحمتی سیاست کیسے ہوسکتی ہے جسکی مثال گرفتاریوں، پیشیوں، انتقامی کارروائیوں وغیرہ کے وقت سامنے آچکی ہے جب آپ گرفتاری دینے آتے ہیں تو آپ کے ساتھ یکجہتی کیلئے پچاس ہزار افراد سڑکوں پر نہیں نکلتے جبکہ ٹھیک تیرہ دن بعد آپ کو سوا کروڑ ووٹ پڑ جاتے ہیں۔

مزاحمتی سیاست دنیا میں کہیں بھی ہوئی ہے تو پہلے وہاں تنظیمیں فعال اور منظم ہوئی ہیں، ترکی کی تازہ مثال ہے کہ طیب اردگان نے بیس سال لگا کر کام کیا اور اپنی جماعت کی تنظیموں کو فعال بنایا، یہی بنیادی وجہ تھی کہ وہاں انکے خلاف سازش کو انکے فعال اراکین، ووٹرز عوام نے ملکر ناکام بنا دیا تھا۔

مزاحمتی سیاست کرنا ہے تو پہلے اپنے حصے کا ہوم ورک کرنا لازم ہے اگر نہیں کرینگے تو نتائج پہلے سے مختلف نہ ہونگے بلکہ مزید مشکلات کھڑی ہو جائیں گی اور انکی ذمہ داری سے جماعت خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکے گی۔

جماعت میں ایسا فعال نظام موجود ہونا چاہیے جس میں ایک کارکن محنت کر کے اپنی قابلیت کے بل بوتے پر جماعت کے کسی اہم عہدے پر فائز ہو سکے۔

رہی بات ووٹ کو عزت دو بیانیہ کی تو یہ عزت  جماعتی سطح پر رہنماؤں، اراکین پارلیمنٹ سمیت عام کارکنان کو بھی دینا ہو گی بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات وزرا اور اراکین پارلیمنٹ سے لیکر بلدیاتی نمائندوں کو واپس تفویض کرنا ہونگے۔


The contributor, Maria Choudhary, is a BBA student with a keen interest in socio-economic affairs.

Reach out to her here.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.