spot_img

Columns

Columns

News

US makes $10,000 visa bond permanent for 50 countries, Pakistan excluded

The United States has permanently adopted a refundable visa bond scheme requiring selected applicants from 50 countries to deposit between $10,000 and $20,000 before receiving tourist or business visas. Pakistan is not among the affected countries.

سابق افغان جنرل نے افغان طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان کر دیا

سابق افغان جنرل نے طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان کر دیا۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ سمیع سادات نے طالبان حکومت کے ارکان، اڈوں اور قیادت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ اُنہوں نے امریکا اور نیٹو سے سیاسی و مادی مدد کی درخواست بھی کی ہے۔

Pakistan and Qatar deepen security ties as fragile US-Iran peace push gains ground

Interior Minister Mohsin Naqvi and his Qatari counterpart agreed to deepen security cooperation in Doha this week, as Pakistan and Qatar push behind the scenes to salvage the Islamabad MoU and bring Washington and Tehran back to the table.

Kuwait ratifies defense pact with Pakistan

Kuwait's Amir has formally ratified the defence cooperation agreement with Pakistan by decree, published in the official gazette. The agreement covers training, logistics, military intelligence, defence industries and a joint military committee.

Security forces launch Mastung operation, 15 terrorists killed

Security forces launched Operation Al Azm in Mastung's Tehsil Khad Kucha, killing 15 terrorists and wounding 12, according to security sources. Eight suspects were detained, one hideout destroyed and a large cache of weapons seized. No casualties were reported among security forces.
Op-Edروسی صدر کا بیان اور اسلاموفوبیا
spot_img

روسی صدر کا بیان اور اسلاموفوبیا

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

اسلام امن پسندی کا نام ہے، اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس میں بنی نوع انسانوں کی زندگیوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے گورے، کالے، امیر، غریب کے درمیان فرق کو ختم کرکے برابری کا اصول قائم کیا ہے۔ اسلام کے اندر مسلمانوں اور اقلیتوں کے حقوق کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے بنی نوع انسانوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے متعلق اہم معلومات سے آگاہ کیا ہے۔ وہ شخص قابل احترام ہے جس کو اللہ تعالٰی دین اسلام کی سمجھ عطاء کرتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ “یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے راہ راست پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی سیدھے راہ پر لانے والا نہیں۔” (سورہ الزمر: 23) ایک اور مقام پر فرمایا کہ “جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جنہیں وہ گمراہ کر دے سو وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں” (سورہ الاعراف: 178)۔ اللہ تعالٰی نے اپنی وحی کے ذریعے ان تمام مسائل کا حل نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا دیا ہے جو بیشتر طور پر ہماری زندگیوں میں رونما ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ دوسرے مزاہب جو (ہمارے لیے قابل احترام ہیں) ان میں حقوق العباد کو اتنی تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا جتنی تفصیل اور باریک بینی کے ساتھ اسلام نے بیان کیا ہے اور دین اسلام نے ہی بنی نوع انسانوں پر حقوق العباد کی ادائیگی کو فرض قرار دے دیا ہے وگرنہ پوری دنیا میں اگر کوئی دوسرا ایسا مذہب ہوتا جو حقوق العباد کو وضع کرتا تو زمانہ جاہلیت میں کوئی بھی اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور نہ کرتا۔

یہ اسلام ہی ہے جس نے مرد اور عورت کو عزت عطاء فرمائی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر اسلام کی وحی نازل ہونے سے قبل دنیا میں تصوراتِ تہذیب اور آدابِ معاشرت مکمل طور پر مسخ ہو چکے تھے۔ ہر طرف ظلم و ستم، جبر و تشدد اور وحشت و بربریت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ کفر و الحاد اور ظلم و جہالت کی تاریکی نے عالم انسانیت کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ عرب کی حالت دنیا کے دوسرے خطوں سے زیادہ گری ہوئی تھی۔ جاہلیت اور نفس پرستی کی وجہ سے ان کی اخلاقی حالت نہایت شرمناک تھی۔ شراب نوشی، عورتوں کا عریاں رقص، لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینا، لاتعداد بیویاں رکھنا اور والد کے مرنے کے بعد دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ اپنی ماؤں کو بھی آپس میں بانٹ لینا اور بیویاں بنا کر رکھنا یا فروخت کر دینا عام تھا اور بعض قبیلوں کا پیشہ ہی چوری، لوٹ مار اور قتل و غارت گری تھا۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے زمانہ جاہلیت کے ان تمام معاملات کا سختی سے مقابلہ کیا ہے اور دوسرے مزاہب کے مقابلے میں مرد و عورت کو زیادہ عزت بخشنے والا بھی اسلام ہے۔ آخر یہ اسلام ہم تک کیسے پہنچا؟ آخر اس اسلام نے دوسرے مزاہب کے مقابلے میں کیسے سبقت حاصل کر لی؟ اس کی اشاعت کے پیچھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکے صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، آئمہ کرام، اولیائے کرام اور بہت سی نیک شخصیات کی محنت ہے جس کے نتیجے میں اسلام آج ہماری زندگیوں میں موجود ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “اللہ تعالٰی جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے دین اسلام کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے” (صحیح البخاری)۔ آج دین اسلام کو چاروں طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ ہم ان شر پسندوں کا مقابلہ کر سکیں جو اسلام کو نقصان پہنچانے کے در پر ہیں۔

آج ہر طرف اسلام کے خلاف سازشیں رچائی جا رہی ہیں اور یہ سازشیں اس وقت تک ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتیں جب تک ہم اپنی زندگیوں کو اسلام کی روشنی میں بسر کرنا شروع نہ کر دیں۔ آج اسلام دشمن عناصر “اساسلاموفوبیا” کا شکار ہوچکے ہیں اور وہ ہر وقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نت نئی سازشوں کا جال بن رہے ہوتے ہیں۔ آج اگر ہم اسلام دشمن عناصر کے خفیہ ایجنڈے کو پرکھنے کی کوشش کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کس طرح یہ قوتیں ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ لوگوں کی ذہنیت کو اسلام کے مخالف کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔

آپ کو معلوم ہوگا کہ فرانسیسی حکومت اور فرانس میں موجود اسلام دشمن لابی کئی دہائیوں سے گستاخانہ مواد شئیر کرکے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہی وہ ملک ہے جو ہر تھوڑے عرصے کے بعد حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے اور گستاخانہ خاکوں کی مدد سے مسلمانوں میں شدت پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ یہاں پر بہت سے لوگ ایک نقطہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر کوئی ملک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرے تو ہمیں اس کے مقابلے میں کیسا رد عمل ظاہر کرنا چاہئیے؟ تو میرے نزدیک اس کا سب سے اہم حل یہی ہے کہ ہمیں ملکی و غیر ملکی میڈیا کے سامنے اپنے احتجاج کو ریکارڈ کروانا چاہئیے اور اس ملک کے خلاف برملا طور پر غم و غصّے کا اظہار کرنا چاہئیے اور اس سے بڑھ کر ہمیں اس ملک کی تیار کردہ اشیاء کا بائیکاٹ کرنا چاہئیے تاکہ معاشی طور پر اس ملک کی بنیادیں کمزور ہوں اور وہ مسلمانوں کے قدموں میں گر کر معافی مانگنے پر مجبور ہو جائے۔ جس طرح پوری اسلامی دنیا نے فرانسیسی پروڈکٹس کا بائیکاٹ کیے رکھا ہے تو آپ اسکی معاشی حالت کو ذرا غور سے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اب تک فرانس کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم امن پسندی کی بجائے شرپسندی والا راستہ اختیار کریں گے تو ہمیں خود ہی جانی نقصان برداشت کرنا پڑے گا جس طرح حالیہ دنوں میں ایک مذہبی جماعت اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ ہوا تھا جس میں نقصان خود مسلمانوں کو ہی ہوا کیونکہ مرنے والے بھی مسلمان اور مارنے والے بھی مسلمان تھے لیکن جو اسلام دشمن قوتیں تھیں وہ یہ سارے مناظر دیکھ کر خوش ہو رہی تھیں کہ ہم نے کامیاب چال چل کر مسلمانوں کو آپس میں گتھم گتھا کروا دیا۔ اگر ہم نے امن پسندی کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑا ہوتا تو سیالکوٹ میں کبھی بھی سری لنکن مینیجر کے ساتھ رونما ہونے والا واقعہ پیش نہ آتا کیونکہ اسلام دشمن عناصر پوری امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں اور وہ اس طرح کے واقعات کا سہارا لے کر مسلمانوں کے خلاف پوری دنیا میں زہر اگلتے ہیں اور اسلام کو شر پسندی کا دین ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسلاموفوبیا کے شکار لوگوں کے ارمانوں کے اوپر اس وقت پانی پھر گیا جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں کی جانے والی گستاخی کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دے دیا اور کہا کہ شان رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی لوگوں کو ناراض کرنے اور اشتعال دلانے کا باعث بنتی ہے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی آزادی اظہار رائے نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شان رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ انہوں نے متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو پر حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حرکتیں انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہیں۔ اس بیان کے بعد فرانس سمیت دوسرے ممالک نے روسی صدر کے خلاف غم و غصّے کا اظہار کیا اور الزام دھر دیا کہ ولادیمیر پوٹن مسلمانوں کے جذبات کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ بین الاقوامی طور پر کسی غیر مسلم سربراہ کا اسلاموفوبیا کے خلاف دیا جانے والا بیان قابل ذکر ہے اور مسلم دنیا کے رہنماؤں نے اس اہم بیان پر روسی صدر کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ بہرحال پاکستان کی جانب سے اسلاموفوبیا کے خلاف کی گئی مشترکہ کاوشیں رنگ لے آئیں اور یہ کاوشیں اسلام دشمن عناصر کے اوپر بجلی بن کر گر پڑی ہیں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو دین اسلام پر صحیح معنوں میں چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

آمین۔


The contributor, Mian Mujeeb-ur-Rehman, is a chemical engineer who doubles as a columnist, having conducted research and crafted blogs for the past several years as a personality for various newspapers and websites throughout Pakistan.

Reach out to him @mujeebtalks.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.