Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
لوگ اپنے گھروں سے اپنے پیاروں کیساتھ ملکہ کوہسار مری کی حسین وادی کا نظارہ کرنے برفباری کو انجوائے کرنے اور کچھ اچھا وقت فیملی کیساتھ گزارنے خوشیوں کی تلاش میں نکلے لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ جو اچھا وقت وہ گزارنے کی تلاش میں نکلے ہیں وہ انکی زندگی کا آخری اور برا ترین وقت بن کر انکو موت کی اس وادی میں لے جائیگا جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی۔
مری سانحہ پر ہر پاکستانی کی آنکھ اشکبار ہے اس سانحہ کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے کہ کس کرب سے ہم وطنوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات برف کے طوفان میں دھنسے ہوئے سسکتے ہوئے آہوں میں گزارے ہونگے پل پل موت کو اپنی جانب آتا بے بسی سے دیکھتے ہونگے وہ سوچتے ہونگے شاید کوئی غیبی امداد آن پہنچے جو انکو اس اذیت ناک سیاہ رات کی اذیت سے نجات دلا دے لیکن انکو شاید نہیں معلوم تھا کہ ایسا نہیں ہوپائیگا۔
لوگ کہتے ہیں حکومت وقت نے بروقت اقدامات نہیں کیے حکومت وقت کہتی ہے لوگوں کا قصور تھا انکو ان حالات میں نہیں جانا چاہیے تھا لیکن اگر دیکھا جائے تو وزیراطلاعات نے چند روز قبل ٹویٹر پر بڑے فخریہ اندازمیں ٹویٹ کی تھی کہ اتنے لاکھ لوگ اور گاڑیاں مری میں داخل ہوچکی ہیں کہاں ہے مہنگائی لیکن اسکے عین دوروز بعد یہ سانحہ رونما ہوگیا مری میں برف میں پھنسی گاڑیوں کے اندرمعصوم لوگ اپنی زندگی کی سانسیں گنتے رہے جبکہ حکومت وقت گاڑیاں گنتی رہی۔
مری میں ایک لاکھ کے قریب گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں ہوٹلوں اور اقامت گاہوں کے کرائے کئ گنا اوپر چلے گئے ہیں سیاحت میں یہ اضافہ عام آدمی کی خوشحالی اور آمدنی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے اس سال سو بڑی کمپنیوں نے 929 ارب روپے منافع کمایا تمام بڑے میڈیا گروپس 33سے چالیس فیصد منافع میں ہیں
جسطرح مری میں ایک لاکھ گاڑیاں داخل ہونے اور مری میں بڑھتی سیاحت کا کریڈٹ وزیراطلاعات نے حکومت کو دیا تھا تو پھراس حساب سے اگر دیکھا جائے تو مری سانحہ میں معصوم جانوں کے زیاع کی ذمہ داری بھی موجودہ حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔
اگر حکومت جانتی تھی کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد مری کا رخ کررہی ہے موسم سرد اور ابتر ہورہا ہے برف باری بڑھے گی تو پھر حکومت نے کیوں عوام کی حفاظت کیلئے انکی آگاہی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے کیوں لوگوں کو مری جانے سے روکا نہ گیا کیوں عوامی رابطہ مہم نہ چلائی گئی سوشل میڈیا اور الیٹرانک میڈیا کو بروقت استعمال نہ کیا گیا ہر کام پر ہیش ٹیگ چلانے والوں نے کیوں اس موقع پرنہ کوئی ہیش ٹیگ چلایا اور نہ ہی کوئی سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کیمپین چلائی تاکہ عوام خبردارہوجائے کہ ایسے موقع پر مری جانا خطرے سے خالی نہیں۔
اگر دیکھا جائے تو حسب عادت حکومت نے ایک مرتبہ پھر ذمہ داری لوگوں پر ڈالنا شروع کردی ہے جسطرح ماضی میں موٹروے ریپ کا واقع ہوا تو الزام ریپ کا شکار ہونیوالی خاتون پرڈال دیا گیا اگر ٹرین میں آگ لگی تو الزام مسافروں پر ڈال دیا گیا اسی طرح مری سانحہ پر ذمہ داری عوام پر ڈالی جارہی ہے لیکن ایسا کتنی دیر چلے گا کتنی دیر ہر سانحہ ہر واقع کی ذمہ داری عوام پر ڈال کر یہ حکومت بری الذمہ ہوتی رہے گی آخر کب تک ایسا ہوتا رہیگا آخر کب تک؟
آخر میں عصر حاضر کے معروف شاعر انور مسعود کے مری کی برفباری پر چند اشعار۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔