تحریک انصاف کے کارکنان مجھے گالی دیکر بلاتے تھے: مریم نواز

جو معیار اپنے گھر کی عورتوں کیلئے چاہتے ہیں وہی معیار دوسروں کی ماوں بہنوں بیٹیوں کیلئے بھی ہونا چاہیے۔

Join the conversation

Translating from the Urdu… 0 of 2 Read the original

Listen to this articleتحریک انصاف کے کارکنان مجھے گالی دیکر بلاتے تھے: مریم نواز2 min · device voice0:00 / 2:09

مریم نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جب انکی والدہ مرحومہ کلثوم نوازلندن میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں اور وہ انکی عیادت کیلئے لندن میں موجود تھیں تو روزانہ گھر سے ہسپتال جاتے اورواپسی پر تحریک انصاف کے کارکنان راستے میں موجود ہوتے تھے اور انکوگالی دیکر بلایا کرتے تھے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اہلیہ انکے لیے قابل احترام ہیں لیکن وہ جو عزت کا معیار اپنی اہلیہ کیلئے چاہتے ہیں وہی معیار مرحومہ کلثوم نواز اور دوسروں کی ماوں بہن بیٹیوں کیلئے بھی ہونا چاہیے نہ کہ دوسروں کی بہن بیٹیوں کی کردارکشی کی جائے۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ انکوبے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزائے موت کی چکی میں قید رکھا گیا اور جب وہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں الیکشن کیمپین پر تھیں تو انکی کیمپین کا سیاسی طور پر تو تحریک انصاف کے پاس جواب نہیں تھا اسی لیے انکے وزرا نے انکی کردار کشی اور ذاتی حملے کیے اور اس وقت عمران خان بڑے خوش ہوتے تھے اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔

مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف کی بیٹی جویریہ شہباز جب اپنے والد کا ہاتھ تھام کرعدالت جایا کرتی تھیں تب انکے ساتھ جو سلوک ہوا سب نے دیکھا اور اب شہباز ثنا بچہ عاصمہ شیرازی غریدہ فاروقی کیساتھ جو کچھ کیا گیا وہ بھی سب نے دیکھا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کوئی آسمان سے اتری مخلوق نہیں کہ ان پر تنقید نہیں ہوسکتی انکے پرانی ساتھی محسن بیگ جب انکے ساتھ تھے تو وہ بہت اچھے تھے لیکن اب جب انہوں نے عمران خان پر تنقید کی تو وہ بوکھلا گئے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ اگر نیب کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت ہوتا تو اسکو اٹھا کر جج کے سامنے رکھتے اس طرح حیلوں بہانوں سے وقت نہ مانگا جاتا اور آج پھر چار ہفتے کا ٹائم مانگ لیا ہے میں ہر پیشی پر عدالت پیش ہوتی ہوں لیکن نیب کو اتنی ڈھیل نہیں دینی چاہیے اسکو چاہیے کہ اگر ثبوت ہیں تو پیش کرے ورنہ کیس کا فیصلہ کردیا جائے۔

TT News Desk

News from The Thursday Times' news desk.

More from this desk

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media