Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
اگر میں نہیں تو کوئی بھی نہیں اگر میں نہیں تو کچھ نہیں بچے گا نہ یہ دھرتی نہ اس دھرتی کے باسی نہ اس دھرتی کے محافظ کیوں کہ میری ”میں“ سب سے بڑی ہے۔
میں نے بے شک اس دھرتی کیساتھ دھوکا کیا میں نے بے شک اپنے محسنوں کیساتھ دغا کیا میں نے بے شک دھرتی کے باسیوں کو رلایا میں نے بے شک دھرتی کے باسیوں کو تڑپایا میں نے بے شک دھرتی کے باسیوں کا چین چھینا میں نے بے شک دھرتی کے باسیوں کا جینا حرام کیا چاہے کچھ بھی کیا لیکن حق پھر بھی میرا ہی بنتا ہے ہر حال میں میرا ہی بنتا ہے کیونکہ میری ”میں“ سب سے بڑی ہے۔
میری ”میں“ وہ ہے جو اپنی ذات کا دن رات طواف کرتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جو اپنی ذات کی پوجا کرتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جودن رات اپنی میں کی مالا جپتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جواپنی میں کے گن گاتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جوخود فریبی کا شکار ہے میری ”میں“ وہ ہے جواپنی ذات کوعقل کل سمجھتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جواپنے آپکو طاقت کا منبہ گردانتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جس کی صبح بھی ”میں“ سے ہوتی ہے اور شام بھی میں سے ہی ہوتی ہے میری ”میں“ وہ ہے جو میں کے نشے میں بدمست ہوچکی ہے میری ”میں“ وہ ہے جس نے اپنی ”میں“ کی میں سے دل وجان سے محبت کرتی ہے میری میں کے آگے دنیا کی کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں ہے میری ”میں“ ہی میری کل کائنات ہے میری ”میں“ وہ ہے جسکے آگے کسی رشتے کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ میری ”میں“ سب سے اونچی سب سے بڑی ہے۔
اگر میری ”میں“ کی تسکین نہ ہوئی یا نہ کی گئی تو میں اپنی ”میں“ کی خاطر کسی حد تک بھی جاسکتا ہوں چاہے اسکے لیے مجھے اس دھرتی اور اس دھرتی کے باسیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے کوئی حرکت کوئی چال ہی کیوں نہ چلنا پڑے چاہے چاہے مجھے دھرتی کے محافظوں کو سرعام رسوا کرنا پڑے چاہے کوئی آفت آئے کوئی پہاڑ ٹوٹے کوئی آندھی آئے کوئی طوفان آئے کوئی پہاڑ ٹوٹے یا میری ”میں“ ہی کو کوئی آفت لانی پڑے اپنی “میں” کی تسکین کیلئے ہر کام ہر حربہ ہر حرکت چاہے وہ جائز ہو یا ناجائز سب چلے گا کیونکہ۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔