Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
محنت کامیابی کی کنجی ہوتی ہے یہ تو ہمیشہ سے سنتے آرہے ہیں لیکن کامیابی کی اصل کنجی فیض یابی ہوتی ہے یہ نہ سنا نہ دیکھا تھا لیکن جس دورمیں ہم جی رہے ہیں اس دور میں نہ صرف سن لیا بالکہ دیکھ بھی لیا۔
کہتے ہیں محنت کر حسد نہ کرلیکن یہ محاورہ بھی اس دور میں اپنا معنی کھوتا نظر آرہا ہے اورلگتا ہے اس کو یوں ہونا چاہیے
فیض یاب ہو حسد نہ کر
:کسی شاعر نے کہا ہے کہ
محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا
:لیکن اب اس شعر کو شاعر سے معذرت کے بعد یوں ہونا چاہیے کہ
فیض یابی سے مل گیا جودارالحکومت کے بیچ تھا
سنتے تھے کہ محنت میں عظمت ہوتی ہے لیکن اب تک توفیض یابی میں ہی عظمت بھی اور کامیابی بھی نظر آتی رہی اور شاید اسی فیض یابی کے صلہ میں بینیفٹ آف ڈاوٹ یعنی شک کا فائدہ دیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ دنوں کے گئے لانگ مارچ کےموقع پر جب کیس سپریم کورٹ گیا تو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے پہلے صفحے کے پہلے پیراگراف میں لکھا کہ تحریک انصاف کہاں جلسہ کرسکتی ہے اور جب فیصلہ آگیا تو عمران خان نے فیصلے کی تعریف تو کردی لیکن بعد میں اپنے کارکنان کو کہا کہ ڈی چوک پہنچولیکن بجائے عمران خان کیخلاف کوئی کاروائی کی جانتی انکوعدالت کی جانب سےیہ کہہ ک بینیفٹ آف ڈٓاوٹ دے دیا گیا کہ شاید ان تک ہمارا پیغام درست طریقہ سے نہیں پہنچا جبکہ اسکے برعکس ماضی میں وزرا اعظم کو بینیفٹ آف ڈاوٹ کیا ملتا انکو الٹا انکے عہدوں سے ہی ہٹا دیا گیا۔
مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو اسوجہ سے وزیراعظم کی کرسی سے ہٹا دیا گیا بالکہ تاحیات نااہل کردیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے بیٹے سے وہ تنخواہ جو وصول ہوسکتی تھی نہیں لی اور تنخواہ نہ لینے پر بینیفٹ آف ڈاوٹ نہیں دیا بالکہ کہا گیا کہ کہ بلیک لا ڈکشنری کیمطابق یہ قابل وصول تنخواہ بنتی تھی اسلیے آپ کو تاحیات ڈسکوالیفائی کیا جاتا ہے۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اس بات پر وزرات عظمی سے ہٹادیا گیا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے کہنے پر خط نہیں لکھا تھا انکو بینیفٹ آف ڈاوٹ دینے کا خیال کسی کو نہ آیا۔
عمران خان کو ایک بار نہیں بالکہ بار بار بینیفٹ آف ڈاوٹ دیا جاتا رہا بالکہ اب دیا جا رہا ہے عمران خان کی ایک آفشور کمپنی جو ڈکلئیر نہیں کی گئی تھی جس میں انہیں کرائے کی رقم بھی آتی تھی لیکن بجائے انکے خلاف کوئی کاروائی کرنے کے انہیں بینیفٹ آف ڈاوٹ دے دیا گیا۔
سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے میڈیا پربار بار آکر کہا کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم انہیں سامنے بٹھا کر کہا کہ تم نے مریم نواز شہبازشریف خواجہ آصف اور دیگر کے خلاف کاروائی کرنی ہے لیکن اسوقت کسی عدالت کو اس پر سوموٹو یا کاروائی کرنے کا یاد نہیں آیا بینیفٹ آف ڈاوٹ شک کا فائدہ عمران خان کو دیا گیا۔
چئیرمین نیب کی وڈیو سامنے آئی اور پھر سب نے دیکھا کہ وہ کیسے بلیک میل ہوئے ان سے مخالفین کیخلاف کیسے کیسے کیسز بنوائے گئے تحریک انصاف کیخلاف کیسے کیسز ختم ہوتے گئے لیکن اس پرکسی عدالت کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا کوئی سوموٹو نہ ہوا بالکہ بینیفٹ آف ڈاوٹ دیا جاتا رہا لیکن اب جب یہ حکومت آئی تو فوری عدالت نے سوموٹو لیا اور ٹرانسفرز اورتقرریوں سے حکومت کوروک دیا کوئی بینیفٹ آف ڈاوٹ نہ دیا گیا۔
ماضی میں تو سیاستدانوں کو صرف ایک تقریر کرنے پر بجائے بینیفٹ آف ڈاوٹ دینے کے انکو الٹا نااہل قرار دے دیا گیا لیکن جب فیض یابی کا دست شفقت سرہرچھتر چھایہ موجود ہو توہر قسم کا بینیفٹ آف ڈاوٹ دینے دلانے کا کام تسلی بخش طریقہ سے کیا جاتا ہے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔