دونالد ترامپ اعلام کرد ایران شاید مانند هر زمان دیگری به آزادی نزدیک شده باشد و از آمادگی آمریکا برای کمک سخن گفت، در حالی که اعتراضات ضدحکومتی با وجود سرکوب شدید، خشونت مرگبار و قطع سراسری اینترنت در سراسر کشور ادامه دارد۔
US President Donald Trump has backed Iran’s protest movement, saying the country is “looking at freedom” as unrest spreads despite a deadly crackdown and internet blackout.
پاکستان اور امریکا کے مابین تیرہویں مشترکہ فوجی مشقوں انسپائرڈ گیمبٹ 2026 کا آغاز ہو گیا جن کا مقصد کاونٹر ٹیررازم میں تجربات کے تبادلہ، حربی طریقہ کار اور مؤثر انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کی ٹیکنیک کو بہتر بنانا ہے۔
Indian markets slipped again as weak global cues and proposed US tariffs on Russian oil buyers rattled investor confidence and heightened fears over India’s energy dependence.
بھارتی سٹاک مارکیٹ مسلسل چوتھے روز مندی کا شکار، غیر ملکی سرمایہ کے انخلا کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ممکنہ 500 فیصد ٹیرف کی حمایت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا۔توانائی اور تجارتی پالیسیوں سے جڑی اس غیر یقینی صورتحال نے بھارتی معیشت اور مالی منڈیوں پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کر دیا۔
سولہ اکتوبر کو ہونے والی ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف نے اپنی ہی جیتی ہوئی آٹھ نشستوں میں سے چھے نشستیں دوبارہ جیت لیں البتہ دو نشستوں پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا واضع رہے کہ ماسوائے ایک نشست کے جس پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے مدمقابل تھیں بقیہ تمام نشستوں پر عمران خان نے الیکشن لڑا۔
اس الیکشن میں پیپلز پارٹی نے دو نشستوں پر الیکشن میں کامیابی حاصل کی جبکہ ن لیگ جس کا گڑھ پنجاب سمجھا جاتا ہے اسکو فیصل آباد میں ایک بڑے مارجن سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اسکے علاوہ ن لیگ کو پنجاب کی دو صوبائی نشستوں پر بھی ناکام ہوئی اور یہ ناکامی ن لیگ کیلئے کئی سوالات اٹھا چکی ہے۔
عمران خان جو اپنی حکومت میں سخت غیر مقبول ہوچکے تھے حکومت چھن جانے کے بعد انہوں نے سازش کے بیانیے کوجس طرح بنایا اسے عوام میں مقبول کروایا اور اسکی بنیاد پر اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو پھر دوام بخشنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ اسکے مقابلہ میں ن لیگ جو عمران خان حکومت میں مقبولیت کی انتہا پر پہنچ چکی تھی اسے نہ صرف پچھلے بالکہ حالیہ ضمنی انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یہاں پرکچھ لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پچھلے اور موجودہ ضمنی انتخابات میں جن نشستوں پر تحریک انصاف کو کامیابی نصیب ہوئی وہ تو حقیقت میں تحریک انصاف کی اپنی ہی جیتی ہوئی نشستیں تھیں اس بات کو اگرکچھ وقت کیلئے تسلیم کربھی لیا جائے تویاد دہانی کیلئے بتاتا چلوں کہ دوہزاراٹھارہ کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کو آرٹی ایس سسٹم کی مرہون منت قرار دیا گیا تھا اس حساب سے تو پھر تحریک انصاف کو اب یہ نشستیں جیتنا نہیں چاہییں تھیں۔
ن لیگ کے ہارنے کی اور کئی وجوہات ہونگی لیکن ناکامی کی ایک بڑی وجہ اسٹریٹیجی اور منیجمنٹ کا فقدان نظر آتا ہے جس دورمیں آج ہم جی رہے ہیں وہ ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے پراپیگنڈہ کا دور ہے پبلک ریلیشنز کا دور ہے اور اسی ہتھیار کو استعمال کرکے تحریک انصاف نے اپنے سچے جھوٹے بیانیے کواپنے ووٹر سپورٹرز کے دل ودماغ میں نقش کردیا ہے لیکن اسکے برعکس ن لیگ ابھی تک ڈیجیٹا میڈیا کے جدید دور کے جدید تقاضوں سے کوسوں دور نظر آتی ہے ڈیجیٹل میڈیا صرف سوشل میڈیا کا نام نہیں ہے بالکہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔
ن لیگ تو جیسے ابھی بھی نوے کی دہائی میں جی رہی ہے اوراسی حساب سے اپنی الیکشن اسٹریٹجی بناتی نظر آتی ہے اور شاید یہ ہی جماعت کی ناکامی کی بہت بڑی وجہ ہے نہ ہی بحثیت جماعت کوئی موثر بیانیہ یہ بنا سکے ہیں اور نہ ہی مخالف کے بیانیے کا توڑ نکال پائے ہیں اور وہ توڑ نکلے بھی تو کیسے کیونکہ مخالف دور جدید کے ڈیجیٹل ہتھیاروں سے مکمل طور پر لیس ہے اور جب آپ مخالف کے ہتھیاروں کے مقابلہ میں پچھلے زمانہ کے ہتھیاروں سے لیس ہوں تو مقابلہ کیسے ہوسکتا ہے۔
موجودہ دور ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ بشمول سوشل میڈیا کا ہے پراپیگنڈہ کا ہے پبلک ریلیشنز کا ہے برانڈنگ کا ہے میڈیا مینیجمنٹ کا ہے اوراپنے بیانیہ کو ووٹرز تک پہنچانے کیلئے اور مخالف کے بیانیے کا توڑ کرنے کیلئے ان ٹولز کا استعمال بے حد ضروری ہے سوشل میڈیا اورانٹرنیٹ فیک نیوز اورپراپیگنڈہ سے بھرا ہوا ہے اپنے بیانیے کو اتنی مہارت سے پھیلایا جاتا ہے کہ وہ عوام کی بھرپورتوجہ بڑی جلدی حاصل کرلیتا ہے اس سب سے نبٹنے کیلئے نوے کی دہائی والی اسٹریٹیجی کے تحت اگرکاونٹر اسٹریٹیجی اپنائی جائیگی تو پھرنتیجہ وہی نکلے گا جوموجودہ اور پچھلے ضمنی انتخابات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
ن لیگ کے پاس اب زیادہ وقت نہیں پچا آئیندہ عام انتخابات جلد یا دیر ہونے ہیں ان انتخابات میں اگر روایتی طریقہ سے جایا گیا تو پھر نتیجہ زیادہ مختلف نہیں نکلے گا اور اس کا واحد حل ڈیجیٹل میڈیا، پراپیگنڈہ، پبلک ریلیشنز میڈیا منیجمنٹ کے ماہرین پر مشتمل پروفیشنلز کی الگ الگ ٹیم بنانا ہے جو نہ صرف جماعتی بیانیے کی بھرپورما برانڈنگ اور مارکیٹنگ کرے بالکہ اسے عوام کو ذہن نشین کروانے کیلئے ایک طرف تمام ڈیجیٹل میڈیا اورروایتی میڈیا کو بھر پور موثر انداز میں استعمال کرے جبکہ دوسری جانب پراپیگنڈہ ٹیم مخالفین کے تمام پراپیگنڈہ کا بروقت اور بھرپورجواب دینے کی مکمل صلاحیت سے لیس ہوتاکہ انکا سچا جھوٹا تمام پراپیگنڈہ سر اٹھانے سے قبل ہی زمیں بوس ہوجائے تاکہ جو بھی فیک نیوز پھیلائئ جائیں انکا فوری اور مکمل سدباب برقت کیا جاسکے۔
اس سب کیساتھ ساتھ جو جماعت کے والنٹیئرز مختلف ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر انفرادی حیثیت میں کام کررہے ہیں انکو بھی آن بورڈ لینا بہت ضروری ہے یہ وہ گمنام ہیروز ہیں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں جماعتی بیانیے کے علم کو بلند رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے ان سب کے تجربات سے بھی جماعت کو بھرپورفائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
دنیا بدل رہی ہے وقت حالات بدل رہے ہیں جوجدید دور کے جدید تقاضون کے متلاشی ہوتے ہیں بیانیہ کوئی بھی ہو اگر بدلتے وقت اور حالات کیساتھ ساتھ خود کو نہ بدلا جائے تو پھر وقت آگے نکل جاتا ہے اوربیانیہ پیچھے رہ جاتا ہے وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اسکا واحد حل وقت کیساتھ ساتھ بدلتے حالات و واقعات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ہے اور چونکہ موجودہ دور ڈیجیٹل میڈیا برانڈنگ، پراپیگنڈہ، پبلک ریلیشنز اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا ہے لہذا اس دور کے ہتھیاروں سے لیس ہوئے بغیرکسی بھی بیانیے کو کامیابی ملنا ناممکن ہے۔
The leadership of the N-League is looking very non-serious. These are things that have been repeatedly pointed out and criticized for reform but have no impact on leadership.
If even now a formal strategy is not made by digital media professionals and the volunteers of the party are not taken into confidence, then it will suffer serious consequences.
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔
The leadership of the N-League is looking very non-serious. These are things that have been repeatedly pointed out and criticized for reform but have no impact on leadership.
If even now a formal strategy is not made by digital media professionals and the volunteers of the party are not taken into confidence, then it will suffer serious consequences.