Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
سولہ اکتوبر کو ہونے والی ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف نے اپنی ہی جیتی ہوئی آٹھ نشستوں میں سے چھے نشستیں دوبارہ جیت لیں البتہ دو نشستوں پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا واضع رہے کہ ماسوائے ایک نشست کے جس پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے مدمقابل تھیں بقیہ تمام نشستوں پر عمران خان نے الیکشن لڑا۔
اس الیکشن میں پیپلز پارٹی نے دو نشستوں پر الیکشن میں کامیابی حاصل کی جبکہ ن لیگ جس کا گڑھ پنجاب سمجھا جاتا ہے اسکو فیصل آباد میں ایک بڑے مارجن سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اسکے علاوہ ن لیگ کو پنجاب کی دو صوبائی نشستوں پر بھی ناکام ہوئی اور یہ ناکامی ن لیگ کیلئے کئی سوالات اٹھا چکی ہے۔
عمران خان جو اپنی حکومت میں سخت غیر مقبول ہوچکے تھے حکومت چھن جانے کے بعد انہوں نے سازش کے بیانیے کوجس طرح بنایا اسے عوام میں مقبول کروایا اور اسکی بنیاد پر اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو پھر دوام بخشنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ اسکے مقابلہ میں ن لیگ جو عمران خان حکومت میں مقبولیت کی انتہا پر پہنچ چکی تھی اسے نہ صرف پچھلے بالکہ حالیہ ضمنی انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یہاں پرکچھ لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پچھلے اور موجودہ ضمنی انتخابات میں جن نشستوں پر تحریک انصاف کو کامیابی نصیب ہوئی وہ تو حقیقت میں تحریک انصاف کی اپنی ہی جیتی ہوئی نشستیں تھیں اس بات کو اگرکچھ وقت کیلئے تسلیم کربھی لیا جائے تویاد دہانی کیلئے بتاتا چلوں کہ دوہزاراٹھارہ کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کو آرٹی ایس سسٹم کی مرہون منت قرار دیا گیا تھا اس حساب سے تو پھر تحریک انصاف کو اب یہ نشستیں جیتنا نہیں چاہییں تھیں۔
ن لیگ کے ہارنے کی اور کئی وجوہات ہونگی لیکن ناکامی کی ایک بڑی وجہ اسٹریٹیجی اور منیجمنٹ کا فقدان نظر آتا ہے جس دورمیں آج ہم جی رہے ہیں وہ ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے پراپیگنڈہ کا دور ہے پبلک ریلیشنز کا دور ہے اور اسی ہتھیار کو استعمال کرکے تحریک انصاف نے اپنے سچے جھوٹے بیانیے کواپنے ووٹر سپورٹرز کے دل ودماغ میں نقش کردیا ہے لیکن اسکے برعکس ن لیگ ابھی تک ڈیجیٹا میڈیا کے جدید دور کے جدید تقاضوں سے کوسوں دور نظر آتی ہے ڈیجیٹل میڈیا صرف سوشل میڈیا کا نام نہیں ہے بالکہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔
ن لیگ تو جیسے ابھی بھی نوے کی دہائی میں جی رہی ہے اوراسی حساب سے اپنی الیکشن اسٹریٹجی بناتی نظر آتی ہے اور شاید یہ ہی جماعت کی ناکامی کی بہت بڑی وجہ ہے نہ ہی بحثیت جماعت کوئی موثر بیانیہ یہ بنا سکے ہیں اور نہ ہی مخالف کے بیانیے کا توڑ نکال پائے ہیں اور وہ توڑ نکلے بھی تو کیسے کیونکہ مخالف دور جدید کے ڈیجیٹل ہتھیاروں سے مکمل طور پر لیس ہے اور جب آپ مخالف کے ہتھیاروں کے مقابلہ میں پچھلے زمانہ کے ہتھیاروں سے لیس ہوں تو مقابلہ کیسے ہوسکتا ہے۔
موجودہ دور ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ بشمول سوشل میڈیا کا ہے پراپیگنڈہ کا ہے پبلک ریلیشنز کا ہے برانڈنگ کا ہے میڈیا مینیجمنٹ کا ہے اوراپنے بیانیہ کو ووٹرز تک پہنچانے کیلئے اور مخالف کے بیانیے کا توڑ کرنے کیلئے ان ٹولز کا استعمال بے حد ضروری ہے سوشل میڈیا اورانٹرنیٹ فیک نیوز اورپراپیگنڈہ سے بھرا ہوا ہے اپنے بیانیے کو اتنی مہارت سے پھیلایا جاتا ہے کہ وہ عوام کی بھرپورتوجہ بڑی جلدی حاصل کرلیتا ہے اس سب سے نبٹنے کیلئے نوے کی دہائی والی اسٹریٹیجی کے تحت اگرکاونٹر اسٹریٹیجی اپنائی جائیگی تو پھرنتیجہ وہی نکلے گا جوموجودہ اور پچھلے ضمنی انتخابات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
ن لیگ کے پاس اب زیادہ وقت نہیں پچا آئیندہ عام انتخابات جلد یا دیر ہونے ہیں ان انتخابات میں اگر روایتی طریقہ سے جایا گیا تو پھر نتیجہ زیادہ مختلف نہیں نکلے گا اور اس کا واحد حل ڈیجیٹل میڈیا، پراپیگنڈہ، پبلک ریلیشنز میڈیا منیجمنٹ کے ماہرین پر مشتمل پروفیشنلز کی الگ الگ ٹیم بنانا ہے جو نہ صرف جماعتی بیانیے کی بھرپورما برانڈنگ اور مارکیٹنگ کرے بالکہ اسے عوام کو ذہن نشین کروانے کیلئے ایک طرف تمام ڈیجیٹل میڈیا اورروایتی میڈیا کو بھر پور موثر انداز میں استعمال کرے جبکہ دوسری جانب پراپیگنڈہ ٹیم مخالفین کے تمام پراپیگنڈہ کا بروقت اور بھرپورجواب دینے کی مکمل صلاحیت سے لیس ہوتاکہ انکا سچا جھوٹا تمام پراپیگنڈہ سر اٹھانے سے قبل ہی زمیں بوس ہوجائے تاکہ جو بھی فیک نیوز پھیلائئ جائیں انکا فوری اور مکمل سدباب برقت کیا جاسکے۔
اس سب کیساتھ ساتھ جو جماعت کے والنٹیئرز مختلف ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر انفرادی حیثیت میں کام کررہے ہیں انکو بھی آن بورڈ لینا بہت ضروری ہے یہ وہ گمنام ہیروز ہیں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں جماعتی بیانیے کے علم کو بلند رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے ان سب کے تجربات سے بھی جماعت کو بھرپورفائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
دنیا بدل رہی ہے وقت حالات بدل رہے ہیں جوجدید دور کے جدید تقاضون کے متلاشی ہوتے ہیں بیانیہ کوئی بھی ہو اگر بدلتے وقت اور حالات کیساتھ ساتھ خود کو نہ بدلا جائے تو پھر وقت آگے نکل جاتا ہے اوربیانیہ پیچھے رہ جاتا ہے وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اسکا واحد حل وقت کیساتھ ساتھ بدلتے حالات و واقعات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ہے اور چونکہ موجودہ دور ڈیجیٹل میڈیا برانڈنگ، پراپیگنڈہ، پبلک ریلیشنز اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا ہے لہذا اس دور کے ہتھیاروں سے لیس ہوئے بغیرکسی بھی بیانیے کو کامیابی ملنا ناممکن ہے۔
The leadership of the N-League is looking very non-serious. These are things that have been repeatedly pointed out and criticized for reform but have no impact on leadership.
If even now a formal strategy is not made by digital media professionals and the volunteers of the party are not taken into confidence, then it will suffer serious consequences.
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔
The leadership of the N-League is looking very non-serious. These are things that have been repeatedly pointed out and criticized for reform but have no impact on leadership.
If even now a formal strategy is not made by digital media professionals and the volunteers of the party are not taken into confidence, then it will suffer serious consequences.