spot_img

Columns

Columns

News

Pakistan named among Trump’s ‘Board of Peace’, reshaping Gaza diplomacy

Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.

گوادر کی ترقی میں اہم سنگِ میل، ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد

گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور

EU and India seal historic trade deal after two decades of talks

After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.

Tirah evacuation exposed: KP government letter contradicts claims of military-led displacement

An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.

No decision on Pakistan joining Gaza stabilisation force, parliament to decide, security sources

Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Op-Ed⁨توشہ خانہ وارداتیں اور چور ڈاکو بیانیہ⁩
spot_img

⁨توشہ خانہ وارداتیں اور چور ڈاکو بیانیہ⁩

آج کل تحریکِ انصاف کے پیروکار اور چند عمران زدہ صحافی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر 8 ماہ میں صرف توشہ خانہ ہی ملا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا وغیرہ وغیرہ۔

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

آج کل تحریکِ انصاف کے پیروکار اور چند عمران زدہ صحافی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر 8 ماہ میں صرف توشہ خانہ ہی ملا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا وغیرہ وغیرہ۔

ایسا مؤقف مضحکہ خیز ہے کہ توشہ خانہ وارداتوں کا بےنقاب ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ یعنی ان لوگوں کے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ عمران خان بیرون ممالک سے ملنے والے قیمتی تحائف کو توشہ خانہ سے چوری کرتا رہا، کوڑیوں کے مول خرید کر کروڑوں روپے میں فروخت کرتا رہا اور پھر اس چوری کو چھپاتا رہا اور الیکشن کمیشن میں اس معاملہ پر جواب دینے سے بھی انکار کرتا رہا۔

ایک شخص جس کو باقاعدہ پلان کے تحت بت بنا کر پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ بندہ ایماندار ہے اور یہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گا وغیرہ وغیرہ، اس بندے کی توشہ خانہ میں تحائف دیکھ کر رال ٹپکنے لگی اور ان کو اونے پونے داموں خرید کر کروڑوں روپے میں بیچتا رہا۔ کیا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے؟

بالفرض اگر اس مؤقف کو تسلیم کر بھی لیا جائے کہ توشہ خانہ تحائف میں وارداتیں ڈالنا کوئی بڑی بات نہیں لہذا عمران خان ایماندار شخص ہے تو پھر یہ بھی بتایا جائے کہ نواز شریف کو کس بنیاد پر چور ڈاکو کہا جاتا ہے جبکہ آپ آج تک نواز شریف پر ایک پائی کی بھی کرپشن ثابت نہیں کر پائے؟

نواز شریف نے 1976 میں سیاست کا آغاز کیا، ایک بار پنجاب کے وزیرِاعلیٰ رہ چکے اور تین بار عوامی طاقت سے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ پاناما کیس (درحقیقت سازش) میں پاکستان کی تمام خفیہ ایجنسیوں اور تحقیقاتی اداروں کی مشترکہ ٹیم JIT نے کئی ماہ کی چھان بین کے بعد کیا نکالا؟ اقامہ؟ بس؟

پاکستان میں جس وسیع پیمانے پر نواز شریف کا احتساب کیا گیا، کبھی کسی اور کا نہیں ہوا۔ تحقیقات کا دائرہ 60 کی دہائی سے لے کر 2017 تک پھیلایا گیا، نواز شریف کے خاندان کی چار نسلوں کو اس ٹرائل کا حصہ بنایا گیا۔ نواز شریف کے مرحوم والد میاں محمد شریف کے تمام ریکارڈز کھنگالے گئے، نواز شریف کی والدہ، نواز شریف کے تمام بھائیوں، نواز شریف کے بھائیوں کے تمام بچوں اور پھر ان بچوں کے بھی بچوں کے تمام ریکارڈز کو تحقیقات میں شامل کیا گیا۔ اس بدترین اور اس قدر وسیع نوعیت کے احتساب میں صرف ایک اقامہ ثابت کیا گیا اور اس اقامہ کی بنیاد پر نواز شریف کو غیرمنصفانہ اور ظالمانہ سزائیں سنا دی گئیں۔

اب اگر انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات کی بنیاد پر شروع ہونے والے ملکی تاریخ کے بدترین اور وسیع ترین احتساب میں صرف ایک پائی کی کرپشن نہیں مل سکی، کسی منصوبہ میں کوئی کک بیک یا رشوت یا کمیشن یا خرد برد یا لوٹ مار ثابت نہیں ہو سکی تو پھر کیوں اب تک نواز شریف کو چور ڈاکو کہا جاتا ہے؟

اگر 8 ماہ میں عمران خان کی توشہ خانہ تحائف میں کرپشن کے انبار نظر آنے پر آپکو عمران خان ایماندار لگتا ہے تو پھر 42 سالہ سیاسی کیرئیر کے حامل شخص کے خاندان کی چار نسلوں کی پانچ دہائیوں کے احتساب میں سے صرف اقامہ ملنے پر آپ کو کیوں نواز شریف ایماندار اور دیانتدار نظر نہیں آتا؟

اگر منافقت کی عینک اتار کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو کہ نواز شریف اس احتساب کے بعد ملکی تاریخ کا ایماندار ترین اور دیانتدار تریں حکمران ثابت ہوا ہے جبکہ عمران خان صرف 8 ماہ میں چوری ڈکیتی کے مال کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔

اللّٰه تعالیٰ ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


The contributor, A.M. Farooqi, is an activist currently working in an MNC as a Customer Relationship Officer.

Reach out to him @_Omaroglu.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: