ACROSS TT

News

Pakistan named among Trump’s ‘Board of Peace’, reshaping Gaza diplomacy

Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.

گوادر کی ترقی میں اہم سنگِ میل، ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد

گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور

EU and India seal historic trade deal after two decades of talks

After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.

Tirah evacuation exposed: KP government letter contradicts claims of military-led displacement

An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.

No decision on Pakistan joining Gaza stabilisation force, parliament to decide, security sources

Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
Pakistan's Choiceمسلم لیگ (ن) کو انتخابی نشان ’شیر‘ ملنے کی دلچسپ داستان

مسلم لیگ (ن) کو انتخابی نشان ’شیر‘ ملنے کی دلچسپ داستان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کو انتخابی نشان "شیر" ملنے کی دلچسپ داستان جو سرتاج عزیز کو درپیش چیلنج اور اس سے نمٹنے کیلئے بروقت فیصلہ کی صلاحیت کے بعد اس کے طاقتور اثرات کو بیان کرتی ہے، شیر کی علامت نے جماعت کی پہچان کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔

spot_img

لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کی پیچیدہ سیاسی تاریخ میں انتخابی نشانات نے ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ یہ علامتیں سیاسی جماعتوں کے نظریات اور ان کی اصل روح کو ایک مجسم شکل فراہم کرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک دلچسپ داستان پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہے جس نے اپنا مشہور انتخابی نشان شیر حاصل کیا۔ سیاسی مہمات کی بےیقینی اور توقعات کی جھلک پیش کرتی یہ داستان پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ایک اہم شخصیت مرحوم سرتاج عزیز نے بیان کی ہے۔

یہ کہانی ہمیں ماضی کی جانب 1990 میں لے جاتی ہے جہاں سیاسی منظرنامہ پر تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں جبکہ اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) میں شامل مسلم لیگ انتخابات کی تیاری کر رہی تھی، آئی جے آئی پہلے بھی انتخابی نشان کے طور پر سائیکل کے ساتھ الیکشن میں حصہ لے چکی تھی اور کامیابی بھی حاصل چکی تھی، مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ووٹرز کے روبرو جماعت کی ایک مستقل پہچان قائم کرنے اور سیاسی تسلسل کیلئے آئندہ انتخابات میں سائیکل کا انتخابی نشان برقرار رکھنا بہت ضروری ہے، اس تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مرحوم سرتاج عزیز نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جہاں وہ ایک غیر متوقع چیلنج میں الجھ گئے۔

پاکستان مسلم لیگ جونیجو (پی ایم ایل جے) کے سیکرٹری جنرل اقبال احمد خان بھی سائیکل کے انتخابی نشان کیلئے درخواست جمع کرا چکے تھے، اس الجھن کو سلجھانے کیلئے چیف الیکشن کمشنر نے فیصلہ کیا کہ یہ معاملہ قرعہ اندازی کے ذریعہ حل کیا جائے گا، اس قرعہ اندازی کا نتیجہ مرحوم سرتاج عزیز کیلئے کسی دھچکے سے کم نہ تھا کیونکہ انتخابی نشان سائیکل کی پرچی اقبال احمد خان کے حصہ میں آئی جبکہ مرحوم سرتاج عزیز خالی ہاتھ رہ گئے، گھبراہٹ میں مبتلا مرحوم سرتاج عزیز کو وقت کی قلت کا بھی احساس تھا جبکہ وہ علامتی نمائندگیوں میں پنہاں پولیٹیکل سٹیک سے بھی واقف تھے۔

دیگر انتخابی نشانات میں سے بیشتر پہلے ہی الاٹ ہو چکے ہیں، مرحوم سرتاج عزیز نے اپنے اختیارات کا از سرِ نو جائزہ لینے کیلئے ایک مختصر وقفہ کی درخواست کی اور پھر کشمکش کے ان لمحات میں انہوں نے دریافت کیا کہ شیر کی علامت تاحال دستیاب ہے، اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرحوم سرتاج عزیز نے فوری طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کیلئے شیر کا انتخابی نشان حاصل کیا اور پھر ترجیح کی بجائے ضرورت کے تحت کیا گیا یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کیلئے غیر متوقع طور پر مبارک ثابت ہوا۔

شیر کے انتخابی نشان کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں اور حامیوں نے جوش و خروش کے ساتھ گلے لگایا جبکہ اس کو انتخابی پوسٹرز، انتخابی جلسوں میں سٹیج کی سجاوٹ اور جماعت کے ترانوں میں بڑے مفید انداز میں استعمال کیا گیا، شیر کا نشان پاکستان مسلم لیگ (ن) کیلئے طاقت اور عزم کی علامت بن گیا اور اس سے جماعت کی پہچان کے حوالہ سے ایک نئے باب کا آغاز ہوا جبکہ یہ نشان ووٹرز کے دِلوں میں بھی گھر کر گیا، لیاقت باغ میں منعقد ہونے والے انتخابی مہم کے آخری جلسہ سے میاں نواز شریف نے خطاب کیا جبکہ اس جلسہ میں شیخ رشید احمد کی جانب سے زندہ شیر لانے کا فیصلہ بھی اس نشان کے طاقتور اثرات اور بھرپور عوامی حمایت کا مظاہرہ تھا۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

error: