ACROSS TT

News

Pakistan named among Trump’s ‘Board of Peace’, reshaping Gaza diplomacy

Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.

گوادر کی ترقی میں اہم سنگِ میل، ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد

گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور

EU and India seal historic trade deal after two decades of talks

After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.

Tirah evacuation exposed: KP government letter contradicts claims of military-led displacement

An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.

No decision on Pakistan joining Gaza stabilisation force, parliament to decide, security sources

Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
NewsroomInternationalآئرلینڈ بہت جلد فلسطین کو تسلیم کرنے جا رہا ہے، آئرش وزیرِ...

آئرلینڈ بہت جلد فلسطین کو تسلیم کرنے جا رہا ہے، آئرش وزیرِ خارجہ و ڈپٹی وزیراعظم میخال مارٹن

آئرلینڈ بہت جلد فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک ریاست تسلیم کرنے جا رہا ہے، غزہ کے لوگوں پر جاری بمباری کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے، کوئی شک نہیں کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا جائے گا۔

spot_img

ڈبلن (تھرسڈے ٹائمز) — آئرلینڈ کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ میخال مارٹن نے آئرش پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئرلینڈ بہت جلد فلسطین کو باضابطہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے جا رہا ہے۔

سائمن ہیرس کے بطور سولہویں آئرش وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد کابینہ کی تقرری سے متعلق بحث کے دوران منگل کے روز پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے میخال مارٹن نے کہا کہ اب فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے میں تاخیر کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔

آئرلینڈ کے ڈپٹی وزیراعظم، وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع میخال مارٹن نے بتایا کہ وہ غزہ میں امن کے قیام سے متعلق اقدامات کرنے والے ممالک کے ساتھ فلسطین کو تسلیم کرنے کے حوالہ سے بات چیت کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ جب یہ وسیع تر بین الاقوامی بات چیت مکمل ہو جائے گی تو حکومت فلسطین کو تسلیم کرنے کے بارے میں ایک باضابطہ تجویز پیش کرے گی تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا جائے گا۔

آئرلینڈ اور کچھ دیگر یورپین ریاستیں آئندہ ہفتوں میں متوقع امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں گی، اس حوالہ سے میخال مارٹن کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے کہ کس طرح مشترکہ طور پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر کے غزہ اور مغربی کنارے کے لوگوں کی مدد کی جا سکتی ہے اور کیسے عرب قیادت میں امن کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں معنی خیز کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

میخال مارٹن نے کہا کہ ہم نے اتفاق کیا ہے کہ اوسلو معاہدے کو کمزور کرنے اور اس وجہ سے دو ریاستوں کی تشکیل کا معاہدہ ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں حتمی معاہدے کی تشکیل کے بعد اوسلو معاہدے کو تسلیم کرنے کا طریقہ اب قابلِ اعتبار یا قابلِ عمل نہیں رہا، میں نے اس حوالہ سے خطہ کے ان لوگوں سے بات چیت کی ہے جو قیامِ امن کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے اور میں غزہ کے لوگوں پر جاری بمباری کی بھرپور انداز میں مذمت کرتا ہوں، سفارتی سطح پر براہِ راست محنت سے بین الاقوامی اتحاد کے قیام سے متعلق ہمارا نقطہ نظر فلسطینیوں کیلئے کہیں زیادہ کارگر ثابت ہو گا۔

فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کا معاملہ آئرش حکومت میں طویل عرصہ سے زیرِ بحث رہا ہے جبکہ اس حوالہ سے یکے بعد دیگرے وزراء نے مشورہ دیا کہ آئرلینڈ کو اصولی طور پر کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم آئرلینڈ فلسطینی ریاست کو اُس وقت تسلیم کرے گا جب وہ مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر سکے گا جبکہ غزہ میں حالیہ جنگ نے آئرلینڈ میں اس مسئلہ کو ایک نئی تحریک دی ہے۔

آئرش ڈپٹی وزیراعظم، وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع میخال مارٹن اس حوالہ سے اردن، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ سلووینیا، مالٹا اور بیلجیئم سمیت یورپی یونین کے ہم خیال ممالک کے ساتھ بھی بات چیت کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ برسلز میں منعقد ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں سابق ائرش وزیراعظم ’’لیو وراڈکار‘‘ نے سپین، سلووینیا اور مالٹا کے وزرائے اعظم سے ملاقات کی تھی جس کے بعد انہوں نے بیان جاری کیا تھا کہ وہ فلسطین کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

error: