خلاصہ:
• ایف بی آئی کے مطابق بم کی جعلی دھمکیاں موصول ہوئیں
• روسی مداخلت سے تعلق کا امکان
• جارجیا میں مقامات خالی کرائے گئے، ووٹنگ دوبارہ شروع
واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی شہری انتہائی اہم صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈال رہے ہیں، اور اسی دوران ایف بی آئی نے کئی ریاستوں میں پولنگ مقامات کو بموں کی جعلی دھمکیاں ملنے کی لہر پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دھمکیاں، اگرچہ ناقابلِ اعتبار ہیں، روسی مداخلت کی کوششوں سے منسلک ہیں۔ ریاست جارجیا میں، جو انتخابی معرکے کی کلیدی ریاست ہے، ان جھوٹی اطلاعات نے اہم مقامات پر ووٹنگ کو کچھ دیر کے لیے متاثر کیا۔
بم کی دھمکیوں سے پولنگ مقامات میں خلل
ایف بی آئی نے بتایا کہ پولنگ کے دن بھر موصول ہونے والی بم کی دھمکیاں بظاہر روسی ای میل ڈومینز سے آ رہی تھیں۔ کسی بھی دھمکی کے قابلِ اعتبار ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم اس کے اثرات پھر بھی محسوس کیے گئے، خاص طور پر اہم ریاست جارجیا میں۔ فلٹن کاؤنٹی میں دو پولنگ مقامات خالی کرائے گئے اور حکام کی جانب سے کسی خطرے کی عدم موجودگی کی تصدیق کے بعد دوبارہ کھول دیے گئے۔ کاؤنٹی حکام اب عدالتی حکم کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ریاست بھر میں مقرر شام 7 بجے کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی ووٹنگ کے اوقات بڑھائے جا سکیں اور تمام ووٹر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔
جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ بریڈ ریفنسپرگر نے پولنگ کے دن ہونے والی اس رکاوٹ کا کھلے عام ذمہ دار روسی عناصر کو ٹھہرایا۔ ریفنسپرگر نے کہا، "یہ شرارت پر اتر آئے ہیں"، اور انہوں نے امریکی جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے کی جانے والی غیر ملکی مداخلت کے مسلسل خطرے کی نشاندہی کی۔ صرف جارجیا کو دو درجن سے زائد جعلی دھمکیوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے بیشتر فلٹن کاؤنٹی میں مرکوز تھیں، جو گنجان آباد اور سیاسی لحاظ سے نہایت اہم علاقہ ہے۔ ریفنسپرگر کے دفتر کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان ای میل ایڈریسز کا تعلق روسی مداخلت کی سابقہ مہمات سے رہا ہے۔
سلامتی کے خدشات سے کشیدگی میں اضافہ
یہ دھمکیاں پہلے سے کشیدہ انتخابی ماحول میں مزید اضافہ کر رہی ہیں، جس میں انتخابی عمل کو درپیش بیرونی اور اندرونی خطرات کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ نیواڈا اور ایریزونا سمیت اہم متنازع ریاستوں میں پولنگ اسٹیشنوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ فینکس میں میریکوپا کاؤنٹی کے ووٹوں کی گنتی کے مرکز کے گرد سکیورٹی باڑ لگائی گئی ہے، جو 2020 میں انتخابات سے متعلق احتجاج اور سازشی نظریات کا مرکز بن گیا تھا۔ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اپنی موجودگی بڑھا دی ہے، اور بدامنی کی کسی بھی علامت کا جواب دینے کے لیے ڈرون اور نشانہ باز تیار ہیں۔
میریکوپا کاؤنٹی کے شیرف رَس سکنر نے تصدیق کی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی خلل یا تشدد کے خلاف "زیرو ٹالرنس" کی پالیسی پر قائم رہیں گے۔ سکنر نے کہا، "ہمارے پاس وہاں بہت سے وسائل موجود ہوں گے،" اور زور دیا کہ ان کی ٹیم کسی بھی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ کئی پولنگ مقامات، جن میں اسکول اور گرجا گھر شامل ہیں جو پہلے ووٹنگ مراکز کے طور پر استعمال ہوتے تھے، نے حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس سال پولنگ کی میزبانی سے معذرت کر لی۔
ٹرمپ کا ووٹنگ کی سکیورٹی پر سوال
دوسری جانب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، اپنی مخصوص "میک امریکہ گریٹ اگین" ٹوپی پہنے، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی سکیورٹی کے بارے میں اپنے شکوک و شبہات کو دہرایا۔ فلوریڈا میں ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ شکست صرف اسی صورت تسلیم کریں گے جب انتخاب "منصفانہ" ہو۔ ٹرمپ طویل عرصے سے روایتی کاغذی بیلٹ کی حمایت کرتے آئے ہیں، اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ زیادہ محفوظ ہیں اور ان کے استعمال سے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ ان کی انتخابی مہم نے عندیہ دیا ہے کہ وہ قبل از وقت فتح کا اعلان کر سکتے ہیں، چاہے لاکھوں بیلٹ کی گنتی باقی ہی کیوں نہ ہو۔
ٹرمپ نے انتخابات کے بعد تشدد کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حامی بدامنی کی طرف مائل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، "یقیناً کوئی تشدد نہیں ہوگا"، اور اس کے برعکس تجاویز پر برہمی کا اظہار کیا۔ اس کے باوجود ان کے بیانات سے ان خدشات میں کچھ خاص کمی نہیں آئی کہ اگر مقابلے کا فیصلہ کئی دن تک نہ ہو سکا تو تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ الزامات، دوبارہ گنتی اور قانونی چیلنجز سے متاثرہ انتخابات کا امکان شدت سے منڈلا رہا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس اور کانگریس دونوں کا کنٹرول داؤ پر لگا ہے۔
صدارت کے لیے تاریخی داؤ
غیر معمولی ڈرامائی واقعات اور بدلتے اتحادوں سے عبارت یہ انتخاب اب بھی کسی ایک جانب جھکتا دکھائی نہیں دیتا۔ کملا ہیرس، جو پہلی خاتون، سیاہ فام اور جنوبی ایشیائی نژاد امریکی صدر بننے کی خواہاں ہیں، نے رائے دہندگان کے ایک متنوع اتحاد کو متحرک کیا ہے۔ ٹرمپ، جو دو بار مواخذے کا سامنا کرنے والے پہلے صدر ہیں اور اب مسلسل نہ ہونے والی مدتوں کے لیے تاریخی کوشش کر رہے ہیں، ایک وفادار حلقے پر انحصار کر رہے ہیں جو برسوں کے سیاسی طوفانوں کا سامنا کر چکا ہے۔
رائے عامہ کے جائزے ایک گہری تقسیم کا شکار قوم کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں ہر امیدوار اہم آبادیاتی گروہوں میں آگے ہے: ہیرس کو خواتین میں مضبوط حمایت حاصل ہے، جبکہ ٹرمپ مرد رائے دہندگان میں بدستور سبقت رکھتے ہیں۔ مقابلے کا نتیجہ پنسلوانیا، مشی گن اور جارجیا جیسی فیصلہ کن ریاستوں میں طے ہونے کا امکان ہے، جہاں ووٹروں کی شرکت اور معمولی فرق پلڑا کسی بھی طرف جھکا سکتے ہیں۔
انتخابی سلامتی اور بدامنی کے خدشات نے آخری دنوں کو نمایاں کیے رکھا، جس کے باعث ووٹروں اور پولنگ مقامات کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات کیے گئے ہیں۔ نیواڈا میں، جہاں چار سال قبل احتجاج پھوٹ پڑا تھا، لاس ویگاس کے ووٹوں کی گنتی کے مرکز کے گرد اب فولادی رکاوٹ کھڑی ہے۔ نیشنل گارڈ کے دستے کئی ریاستوں میں تعینات کیے گئے ہیں یا تیار حالت میں رکھے گئے ہیں، تاکہ کسی بھی پیدا ہونے والے خطرے کا جواب دے سکیں۔
تاریخ رقم ہونے کے انتظار میں دونوں فریق بے چین ہیں، اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکہ کے جمہوری عمل کو اپنے اب تک کے سب سے بڑے امتحانات میں سے ایک کا سامنا ہے۔



