فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران جنگ بندی کیلئے سفارتکاری میں مرکزی کردار بن کر اُبھرے ہیں، نیویارک ٹائمز

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران جنگ بندی کیلئے سفارتکاری میں مرکزی کردار بن کر ابھرے ہیں اور پاکستان کی ابھرتی سفارتی اہمیت کا اہم چہرہ بن چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آج پاکستان کو وائٹ ہاؤس تک جو رسائی حاصل ہے وہ پہلے کبھی میسر نہ تھی۔

Join the conversation

Translating from the Urdu… 0 of 4 Read the original

Field Marshal Syed Asim Munir has emerged as a key backchannel figure in efforts to ease US-Iran tensions, underscoring Pakistan’s renewed diplomatic relevance and growing access to Washington. — FILE/THE THURSDAY TIMES
Field Marshal Syed Asim Munir has emerged as a key backchannel figure in efforts to ease US-Iran tensions, underscoring Pakistan’s renewed diplomatic relevance and growing access to Washington. — FILE/THE THURSDAY TIMES
Listen to this articleفیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران جنگ بندی کیلئے سفارتکاری میں مرکزی کردار بن کر اُبھرے ہیں، نیویارک ٹائمز4 min · device voice0:00 / 4:22

نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف اور مُلک کی سب سے بااثر شخصیت فیلڈ مارشل عاصم منیر حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے ہونے والی پسِ پردہ سفارت کاری میں مرکزی کردار کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔

اِس پیش رفت نے نہ صرف خطہ میں عدم استحکام کے حوالہ سے اسلام آباد کی گہری تشویش کو ظاہر کیا ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوا ہے کہ پاکستان کو ایک نئی جغرافیائی و سفارتی اہمیت حاصل ہو رہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ، تجزیہ کاروں کے مطابق، وہ ذاتی تعلق ہے جو فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قائم کیا ہے۔

پاکستانی سلامتی امور کے ایک تجزیہ کار نے ’’نیویارک ٹائمز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو شاید اِس سے پہلے کبھی وائٹ ہاؤس تک اِس سطح کی رسائی حاصل نہیں ہوئی جو پاکستان کو آج میسر ہے۔

امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک کیریئر فوجی آفیسر ہیں جنہوں نے پہلے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلیجنس) کی قیادت سنبھالی اور پھر اُنہیں 2022 میں پاک فوج کی کمان سونپ دی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس منظور کی گئی ایک آئینی ترمیم کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاکستان میں تاحیات قانونی تحفظ حاصل ہو گیا جس کے تحت اُنہیں تمام مسلح افواج پر وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں جبکہ مُلْک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کی خود مختاری کو بھی محدود کر دیا گیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قومی منظر نامہ پر، بالخصوص گزشتہ مئی میں بھارت کے ساتھ مختصر جنگ کے بعد، ایک زیادہ نمایاں اور واضح کردار اپنایا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق گزشتہ برس فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ صدر ٹرمپ سے دو ملاقاتیں ہوئیں جبکہ ٹرمپ اُنہیں اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل بھی قرار دے چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اب اِسی تعلق کو استعمال کرتے ہوئے خود کو ایک بار پھر ایشیاء میں امریکا کے ایک اہم شراکت دار کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب 2021 میں ہمسایہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد بائیڈن انتظامیہ کے دور میں پاکستان کو واشنگٹن کی ترجیحات میں واضح طور پر پیچھے دھکیل دیا گیا تھا۔

پاکستان کیلئے ایران سے متعلق سفارتی عمل محض کسی اور کے تنازعہ میں ثالثی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ براہِ راست پاکستان کے مفادات بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 560 میل طویل اور نسبتاً غیر محفوظ سرحد موجود ہے جبکہ پاکستان دنیا میں ایران کے بعد بڑی شیعہ آبادی رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے جن میں سے بہت سے شیعہ مذہبی راہنمائی اور بعض اوقات سیاسی تحریک کیلئے تہران کی طرف دیکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی طویل عرصہ تک برقرار رہی یا خطہ کسی بڑی جنگ کی طرف بڑھا تو اِس کے اثرات پاکستان کے اندر مذہبی تناؤ، ایندھن کی فراہمی میں خلل اور شدید معاشی دھچکوں کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں جبکہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو گا جب پاکستان پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ سے نمٹ رہا ہے۔

واشنگٹن میں قائم تحقیقی ادارے ’’نیو لائنز انسٹیٹیوٹ‘‘ کے سینیئر ڈائریکٹر نے ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے مفاد میں یہی ہے کہ امریکا اور ایران کسی نہ کسی مفاہمت تک پہنچ جائیں کیونکہ اسلام آباد یہ نہیں چاہتا کہ تہران میں ریاستی ڈھانچہ بکھر جائے، خواہ موجودہ نظام شدید دباؤ اور کمزوری ہی کا شکار کیوں نہ ہو۔

نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ اِس وسیع تر حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان اب محض خطہ میں رونما ہونے والے واقعات کا ردِعمل دینے والا مُلک نہیں رہا بلکہ وہ بتدریج ایسے مقام پر آ رہا ہے جہاں بعض بڑے واقعات کی سمت، رفتار اور سفارتی معاملات اُس کے ذریعہ متعین ہو سکتے ہیں۔ اِس تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار محض عسکری قیادت تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ پاکستان کی اُبھرتی ہوئی سفارتی اہمیت کے ایک اہم چہرے کے طور پر بھی سامنے آ رہے ہیں۔

TT Monitoring Desk

Reports from The Thursday Times' in-house monitoring desk.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media