اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو کہا کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کا مالیاتی سرپلس برقرار رہا کیونکہ محصولات ہدف سے بڑھ گئے اور سبسڈیز میں 90 فیصد کمی کی گئی، تاہم سود کی ادائیگیوں میں تقریباً 37 فیصد اضافے اور ترقیاتی اخراجات میں تیز اضافے کے باعث سرپلس کم ہو گیا۔
وزارت کی ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک کے مطابق جولائی سے ستمبر تک مجموعی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی (GDP) کا 0.8 فیصد یعنی 1,198 ارب روپے رہا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 1.7 فیصد (2,124 ارب روپے) تھا۔ سود کی ادائیگیوں کو نکال کر پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 1.6 فیصد (2,300 ارب روپے) رہا، جو پہلے 2.3 فیصد (2,940 ارب روپے) تھا۔
اخراجات میں اضافہ، محصولات ہدف سے آگے
رپورٹ کے مطابق کل اخراجات میں 20.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ ترقیاتی اخراجات میں 69.5 فیصد اضافہ تھا، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی وصولیوں میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا اور ٹیکس محصولات ہدف سے زیادہ رہے۔ وفاقی حکومت نے اس سہ ماہی میں جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کا سرپلس ریکارڈ کیا۔
وزارت نے کہا کہ مالیاتی پالیسی محصولات کی بہتر وصولی اور محتاط اخراجات کے ذریعے استحکام برقرار رکھنے پر مرکوز رہے گی۔
محتاط امید
وزارت نے کہا کہ اسے مالی سال 2027 میں معاشی بحالی جاری رہنے کی توقع ہے، جسے فصلوں کے بہتر امکانات، چند منتخب مینوفیکچرنگ صنعتوں، اندرونِ ملک تعمیرات اور بڑھتی ہوئی بیرونی آمدن کا سہارا حاصل ہوگا، جبکہ امریکہ، برطانیہ اور او ای سی ڈی (OECD) کی دیگر منڈیوں میں مستحکم طلب برآمدات کو مدد دے گی۔
وزارت نے اکتوبر کے لیے مہنگائی کی شرح 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا۔
وزارت نے جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تجارتی رکاوٹوں، اجناس کی بلند قیمتوں اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال کو اس منظرنامے کے بڑے خطرات قرار دیا۔



