اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان نے بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور (جی 24) کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے، جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک زیادہ جامع، منصفانہ اور ترقی پر مرکوز عالمی مالیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
فنانس ڈویژن نے اتوار کو بتایا کہ اورنگزیب نے پاکستان کی مدتِ صدارت کے لیے تین ترجیحات بیان کی ہیں: ترقی کو عالمی معاشی پالیسی سازی کا مرکز بنانا، کثیر الجہتی اداروں میں ترقی پذیر معیشتوں کی آواز کو مضبوط کرنا، اور بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات۔
انہوں نے کہا: ’’ترقی پذیر معیشتوں کا مستقبل عالمی معیشت کے مستقبل کا حاشیائی حصہ نہیں، بلکہ اس کا مرکزی حصہ ہے۔ ہمارا کام یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی پذیر معیشتوں کی بے پناہ صلاحیت کسی ایسے بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے کی وجہ سے محدود نہ ہو جو بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق خود کو پوری طرح ڈھال نہیں سکا۔‘‘
پاکستان کے ایجنڈے میں سستی اور بروقت ترقیاتی مالی معاونت، قرضوں کے پائیدار حل، مضبوط عالمی مالیاتی تحفظاتی نظام، موسمیاتی لچک اور مزید سرکاری و نجی سرمائے کی فراہمی شامل ہوں گے۔ اورنگزیب نے بریٹن ووڈز اداروں، یعنی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک میں، ان کے ارکان کی ضروریات کی عکاسی کے لیے زیادہ منصفانہ طرزِ حکمرانی اور زیادہ شرکت کا مطالبہ کیا۔
پاکستان کے اپنے معاشی استحکام اور اصلاحات کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالیاتی استحکام کو طویل مدتی ترقی سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، اور اصلاحات کرنے والی معیشتوں کو آگے بڑھنے کے لیے کافی مالی معاونت اور پالیسی گنجائش درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور کیریبین میں جی 24 کے ارکان کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ساتھ بھی مل کر کام کرے گا، اور سبکدوش ہونے والے چیئرمین نائیجیریا کا شکریہ ادا کیا۔ ’’ہماری اجتماعی قیادت کا حقیقی پیمانہ صرف ہماری آواز کی مضبوطی نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ اس آواز سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘
جی 24 (G-24)، جو 1971 میں قائم ہوا، بین الاقوامی مالیاتی اور ترقیاتی مالی امور پر، خصوصاً آئی ایم ایف (IMF) اور عالمی بینک میں، ترقی پذیر ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔



