اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان ایل پی جی (LPG) کو مارکیٹ پر مبنی قیمتوں پر منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں قیمت کا تعین درآمدی لاگت کرے گی اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے سبسڈی برقرار رکھی جائے گی۔ اس سلسلے میں تجاویز حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھیج دی گئی ہیں۔
منصوبے کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) مقامی اور درآمدی دونوں ایل پی جی کی ماہانہ قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنا بند کر دے گی، اور اس کے لیے یکم نومبر 2026 کی تاریخ تجویز کی گئی ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس ایس جی سی ایل پی جی اور پارکو پرل گیس سمیت سرکاری کمپنیاں بڑی مقدار میں درآمدات کی قیادت کریں گی اور حقیقی لینڈڈ لاگت کی بنیاد پر ماہانہ بنیادی قیمتیں مقرر کریں گی، جن میں سعودی آرامکو کی کنٹریکٹ قیمت، درآمدی پریمیم، کرایہ بار برداری، انشورنس اور ٹیکس شامل ہوں گے۔
پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ موجودہ فارمولا اب درآمدی ایل پی جی کی اصل لاگت کی عکاسی نہیں کرتا۔ اس کا مقررہ مارجن 35,000 روپے فی ٹن 2018 سے تبدیل نہیں ہوا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ قیمتیں سرکاری حد سے کہیں اوپر چلی گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جنوری سے جولائی 2026 کے درمیان فلنگ پلانٹس پر اوسط قیمتیں نوٹیفائی کی گئی صارف قیمت سے 60 سے 79 روپے فی کلوگرام زیادہ رہیں، جبکہ مارچ میں یہ فرق 158 روپے تک پہنچ گیا۔
پبلک اکاؤنٹ میں ایک نیا فنڈ قائم کیا جائے گا جو درآمد پر مبنی قیمت اور مقامی پیداوار کنندگان کو ادا کی جانے والی کم قیمت کے درمیان فرق جمع کرے گا۔ یہ رقم ان گھرانوں کے لیے ہدفی سبسڈی پر خرچ ہو گی جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) یا غربت کے جائزے کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔ پٹرولیم ڈویژن وزارت خزانہ اور بی آئی ایس پی کے ساتھ مل کر ایک ماہ کے اندر قواعد تیار کرے گا، اور آڈیٹر جنرل فنڈ کا آڈٹ کریں گے۔
کمپنیاں اپنے مارکیٹنگ مارجن اور کرایہ بار برداری کے اخراجات خود طے کریں گی، جبکہ ملی بھگت روکنے کی ذمہ داری مسابقتی کمیشن اور اوگرا پر ہو گی۔ 2017 میں قائم کی گئی ایل پی جی پرائسنگ کمیٹی ختم کر دی جائے گی، اور موجودہ ٹیکس اور لیویز بدستور لاگو رہیں گے۔



