اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — اٹک ریفائنری کے سربراہ نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت کے تعین کے طریقۂ کار میں 30 اکتوبر کو کی گئی تبدیلی سے ملک کی ریفائنریوں کو تقریباً 49 روپے فی لیٹر نقصان ہو سکتا ہے اور 5 سے 6 ارب ڈالر کے مجوزہ اپ گریڈ منصوبے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
حکومت کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں اٹک ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو عادل خٹک نے کہا کہ جنگ سے پہلے کے پریمیم اور متفرق اخراجات کو پیٹرول کی قیمت کے تعین کے نظام میں شامل کرنے سے ریفائنریوں کو تقریباً 35 روپے فی لیٹر کا نقصان ہو گا۔ ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی کم کرنے کے لیے ریفائنریوں کی کسٹم ڈیوٹی کی وصولی میں سے مزید 14 روپے فی لیٹر منتقل کیے گئے تو مجموعی نقصان 49 روپے ہو جائے گا۔
خٹک نے کہا کہ یہ فیصلہ صنعت سے مشاورت کے بغیر کیا گیا، حالانکہ ان کے بقول صنعت ڈیزل پر اپنا مارجن محدود رکھنے پر پہلے ہی دو مرتبہ رضامندی ظاہر کر چکی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام براؤن فیلڈ ریفائنریز اپ گریڈیشن پالیسی کے بھی منافی ہے، جس کے تحت 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی کی وصولی ریفائنریوں کے مخصوص اکاؤنٹس میں جاتی ہے تاکہ اپ گریڈ کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے، اور جو منصوبوں کے جاری رہنے کے دوران منفی تبدیلیوں سے تحفظ کی یقین دہانی کراتی ہے۔
یہ وقت شعبے کے لیے نازک ہے۔ چار ریفائنریوں نے 24 ستمبر کو اپ گریڈ کے معاہدوں پر دستخط کیے، پارکو (PARCO) سے بھی ایسا ہی متوقع ہے، اور اب یہ ریفائنریاں مقامی اور بین الاقوامی قرض دہندگان سے بات چیت کر رہی ہیں۔ خٹک نے خبردار کیا کہ دستخط کے بعد مالی شرائط تبدیل کرنے سے ایک اہم مرحلے پر قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ہر سال کی تاخیر سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ تقریباً 1.5 ارب ڈالر لگایا۔
یہ خبر شائع ہونے تک اس انتباہ پر حکومت کا کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ ایندھن کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی ہو رہی ہے، اور حالیہ جائزے میں پیٹرول کی قیمت پیر تک 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی۔



