واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — ناسا (NASA) کی نیل گیہریلز سوئفٹ آبزرویٹری، جو دو دہائیوں سے زائد عرصے تک کائنات کے سب سے طاقتور دھماکوں کا سراغ لگاتی رہی، اسے بچانے کے لیے بھیجا جانے والا تجارتی مشن ناکام ہونے کے بعد جمعے کے آس پاس زمین پر گرنے کی توقع ہے۔
ناسا نے 23 اکتوبر کو اعلان کیا کہ سوئفٹ کا سائنسی مشن ختم ہو گیا ہے، کیونکہ خلائی جہاز 275 کلومیٹر سے نیچے آ چکا تھا، جہاں فضائی رگڑ کے باعث اس کی دوربینیں اپنے اہداف پر مستحکم نہیں رہ پاتی تھیں۔ 1,500 کلوگرام وزنی اس آبزرویٹری کا اپنا کوئی انجن نہیں جس سے یہ دوبارہ بلندی پر جا سکے، اور اس کی واپسی بے قابو ہو گی۔ ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ ٹھیک کب اور کہاں گرے گی، جبکہ رپورٹس کے مطابق متوقع تاریخ تقریباً 6 نومبر ہے۔
ایریزونا میں قائم کیٹالسٹ اسپیس (Katalyst Space) کا بنایا ہوا ایک روبوٹک خلائی جہاز سوئفٹ کے ساتھ جڑ کر اسے بلند مدار میں پہنچانے کے لیے تھا، تاہم ناسا اور کمپنی نے اگست میں بتایا کہ بچاؤ کرنے والے جہاز میں اٹیٹیوڈ کنٹرول کی خرابی کے باعث یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ سوئفٹ کا بیشتر حصہ فضا میں جل کر ختم ہو جائے گا، اگرچہ ماہرین کے مطابق اس کی دوربینوں کے کچھ ٹھوس حصے بچ سکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے زمین پر موجود لوگوں کو کوئی نمایاں خطرہ لاحق نہیں ہو گا۔
نومبر 2004 میں لانچ کی گئی سوئفٹ کو گیما رے برسٹس کو پکڑنے کے لیے بنایا گیا تھا، جو ہر نئے دھماکے کی طرف تیزی سے رخ موڑ کر اس کے مدھم پڑنے سے پہلے اس کا مطالعہ کرتی تھی۔ اس نے ایسے 2,000 سے زائد دھماکوں کا مشاہدہ کیا، اور ناسا کے مطابق وہ ہائی انرجی ایسٹروفزکس میں اہم دریافتوں کی میراث چھوڑ گئی ہے۔



