پتایا (تھرسڈے ٹائمز) — کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی باکسر عابدہ بتول ویمنز انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن (WIBA) کا عالمی ٹائٹل جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئی ہیں۔ انہوں نے پتایا میں تھائی لینڈ کی وانڈی سینونگکھروٹ کو شکست دے کر ایٹم ویٹ کی خالی بیلٹ اپنے نام کی۔
26 سالہ عابدہ بتول نے 31 اکتوبر کو ایف سی سی اسٹیڈیم میں "بریو ہارٹس" کے مقابلوں میں تقسیم شدہ تکنیکی فیصلے کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ آٹھ راؤنڈ کا طے شدہ مقابلہ پانچویں راؤنڈ میں اس وقت روک دیا گیا جب اتفاقیہ ہیڈ بٹ سے عابدہ بتول کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور رنگ کے کنارے موجود ڈاکٹر نے مقابلہ ختم کرا دیا، جس کے بعد فیصلہ ججوں کے اسکور کارڈز پر چلا گیا۔
دو ججوں نے عابدہ بتول کے حق میں 50-45 اور 49-48 سے اسکور دیا، جبکہ تیسرے جج نے سینونگکھروٹ کو 48-47 سے آگے رکھا۔
اس سال تھائی لینڈ میں یہ عابدہ بتول کا دوسرا ٹائٹل مقابلہ تھا۔ جنوری میں انہوں نے بنکاک میں ڈبلیو بی سی ایشیا (WBC Asia) ایٹم ویٹ ٹائٹل کے لیے وسوتا سریرتی دیت کو چیلنج کیا تھا، مگر ہار گئی تھیں۔ وہ اس مقابلے میں پاکستان کی سرفہرست خاتون پروفیشنل باکسر اور ڈبلیو بی سی ایشیا کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر تھیں۔
عابدہ بتول نے 2018 میں باکسنگ کا آغاز کیا اور پاکستان کا قومی پروفیشنل ٹائٹل جیت چکی ہیں۔ وہ مکسڈ مارشل آرٹس، ووشو اور کک باکسنگ میں بھی حصہ لے چکی ہیں، اور مالی مشکلات اور خاندان کی ابتدائی مخالفت کے باوجود اس مقام تک پہنچی ہیں۔ انہوں نے تھائی لینڈ روانگی سے پہلے اسلام آباد میں تیاری کی۔
کامیابی کے بعد انہوں نے اپنے خاندان، کوچ شارق خان اور پاکستان کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا: "یہ تو صرف آغاز ہے۔ میں مزید ٹائٹل جیتنے آ رہی ہوں۔"



