اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان میں 2026 میں اب تک 1,000 سے زائد سائبر حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ ان کی نگرانی کے ذمہ دار ادارے کے پاس 70 ملازمین ہیں۔ یہ بات ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے اس ہفتے قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کو بتائی۔
نیشنل سرٹ (CERT) کے سربراہ حیدر عباس نے قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی (IT) و ٹیلی کام کو بتایا کہ ادارے کے تقریباً 30 فیصد کام کا انحصار اب اے آئی (AI) ایجنٹس پر ہے، جبکہ باقی 70 فیصد کام ہاتھ سے کیا جاتا ہے۔ ارکان نے سوال کیا کہ کیا اے آئی کا استعمال خود بھی سکیورٹی کے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ حیدر عباس نے کہا کہ پاکستان میں خطرات کی نشاندہی اور نگرانی کے لیے ایک مانیٹرنگ سینٹر موجود ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے کہا کہ 14 اگست اور 6 ستمبر کے آس پاس ہیکنگ کی کوششوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور پوچھا کہ ان تاریخوں پر حملوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حیدر عباس نے کہا کہ 2023 میں منظور کیے گئے انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک رولز اداروں کے دفاعی نظام کی مضبوطی جانچنے کا ایک طریقہ فراہم کرتے ہیں، اور ہر ادارے کا سالانہ سائبر سکیورٹی آڈٹ کیا جائے گا۔ سیکریٹری آئی ٹی نے کہا کہ ہر صوبے نے سائبر سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے محکمے نامزد کر دیے ہیں۔
رکن اسمبلی موسیٰ گیلانی نے کہا کہ پاکستانیوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ میں اب بھی کمزوریاں موجود ہیں، اور یہ ڈیٹا ملک کے اندر ہی رہنا چاہیے۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے ڈیٹا کے لیے ایک مخصوص ریگولیٹر اور اے آئی کی مناسب نگرانی کا مطالبہ کیا۔
اسی اجلاس میں بتایا گیا کہ یوٹیوب دیکھنے میں پاکستان دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے، جبکہ ارکان پارلیمنٹ نے نیٹ ورکس کی بگڑتی ہوئی کارکردگی کی شکایت کی۔



