لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — قلعہ لاہور کا اکبری دروازہ، جو برطانوی دور میں بند کر دیا گیا تھا، بحال کر دیا گیا ہے، اور یہاں ٹکٹ دفتر بنانے کا منصوبہ ہے تاکہ یہ سیاحوں کے لیے باقاعدہ داخلی راستہ بن سکے اور اندرون شہر کے رہائشیوں کے لیے قلعے تک پہنچ آسان ہو۔
بدھ کو اس دروازے اور کیوریٹرز ہاؤس کی ابتدائی رونمائی ہوئی۔ برطانوی دور کی یہ عمارت پہلے قلعے کے محافظوں کی رہائش تھی، بعد میں انتظامی کاموں کے لیے استعمال ہوئی اور حال تک دو گھروں میں تقسیم تھی۔ اب اسے کھانے پینے کی جگہ میں بدلا جائے گا۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نجم الثاقب نے کہا کہ اس کام کا مقصد تاریخی مقامات تک رسائی بہتر بنانا، زیادہ لوگوں کو لانا اور معاشی مواقع پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق دروازے کے کھلنے سے اندرون شہر اور قلعے کا رابطہ دوبارہ جڑ جائے گا۔
یہ کام 2022 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کا حصہ ہے جسے فرانسیسی ترقیاتی ادارے کا تعاون حاصل ہے اور آغا خان کلچرل سروس پاکستان اس پر عمل کر رہی ہے۔ یہ دروازہ مغل بادشاہ اکبر کے دور کا ہے اور عام طور پر اس کی تاریخ 1566 بتائی جاتی ہے۔ اکبری محل، کالا برج اور برطانوی بیرکوں میں کام ابھی جاری ہے۔
ٹکٹ دفتر کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی، اس لیے فی الحال یہ واضح نہیں کہ عام لوگ اس دروازے سے کب گزر سکیں گے۔



