اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — اسلام آباد میں ایک طبی کانفرنس میں بیٹھے سرجن نے روبوٹ کو دور سے چلا کر شہر کے ایک اسپتال میں مریض کا پتہ نکال دیا، جسے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی پاکستان کی پہلی روبوٹک ٹیلی سرجری قرار دیتی ہے۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار اور روبوٹک سرجن پروفیسر ڈاکٹر سید تنصیر اصغر نے گندھارا ہیریٹیج اینڈ کلچر سینٹر میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس آن فیوچر آف ہیلتھ کیئر سے کنسول چلایا، جبکہ مریض کلثوم انٹرنیشنل اسپتال میں تھا۔ یونیورسٹی کی پریس ریلیز کے مطابق کنسلٹنٹ روبوٹک اینڈ ویسکولر سرجن ڈاکٹر ثنا شرافت علی مریض کے پاس رہیں اور اسپتال میں موجود سرجن ٹیم کے ساتھ روبوٹ کارٹ سنبھالا۔
یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ٹیلی سرجری دور دراز علاقوں تک ماہر سرجنوں کی خدمات پہنچا سکتی ہے، بشرطیکہ بنیادی ڈھانچہ، طبی حفاظتی انتظامات اور قواعد موجود ہوں۔ یہ ایک ہی شہر میں کی گئی مظاہرہ نما سرجری تھی جس میں مریض کے پاس سرجن موجود تھے، یہ ابھی معمول کا طریقہ نہیں ہے۔
دستیاب تفصیلات میں مریض کی حالت، فاصلے یا استعمال ہونے والے روبوٹ کا ذکر نہیں۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق نے یونیورسٹی کے پہلے روبوٹک سرجری اور مصنوعی ذہانت ہیلتھ سینٹر کی منظوری بھی حاصل کر لی ہے۔



