گوادر (تھرسڈے ٹائمز) — تقریباً 30 فٹ لمبی ایک بلیو وہیل بدھ کو گوادر کے ایسٹ بے ساحل پر کوسٹ گارڈز کے دفتر کے پیچھے مردہ پائی گئی، اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اس کی موت کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ساحل تک پہنچنے سے پہلے وہیل کو دو دن تک گوادر کے پانیوں میں تیرتے دیکھا گیا تھا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان نے کہا کہ ممکن ہے وہ کم گہرے پانی میں داخل ہونے کے بعد راستہ بھٹک گئی ہو، جہاں اس کی سمت شناسی متاثر ہو سکتی ہے۔ موت کی اصل وجہ ابھی معلوم نہیں۔
خان نے اس موت کو سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے تشویش کی بات قرار دیا۔ امریکہ کے نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے مطابق بالغ بلیو وہیل تقریباً 100 فٹ تک لمبی ہو سکتی ہے، اس لحاظ سے 30 فٹ کی یہ وہیل اپنی نسل کے حساب سے چھوٹی تھی۔
پاکستان کے ساحل پر اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔ اپریل 2019 میں تقریباً 34 فٹ لمبی وہیل گوادر کے ساحل پر مردہ پائی گئی، مئی 2023 میں تقریباً 42 فٹ لمبی وہیل جیوانی کے بندری ساحل پر ملی، نومبر 2023 میں 27 فٹ لمبی برائیڈز وہیل پسنی کے قریب مردہ پائی گئی، اور جون 2024 میں تقریباً 35 فٹ لمبی وہیل گوادر کے قریب کنٹانی میں سمندر میں تیرتی ملی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ساحل پر پھنسنے والی وہیلوں کا ریکارڈ رکھتا ہے۔



