کراچی (تھرسڈے ٹائمز) — نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے جمعرات کو کہا کہ شاہراہ فیصل کے قریب ایک کال سینٹر پر چھاپے میں 273 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 100 سے زائد خواتین اور 18 سال سے کم عمر کے 42 افراد شامل ہیں۔ ان کے مطابق شہر میں 300 سے 350 فراڈ کال سینٹر کام کر رہے ہیں۔
شہزاد اکبر نے بتایا کہ یہ کمپنی کراچی کے سرفہرست تین فراڈ کال سینٹروں میں شامل تھی۔ چھاپے میں 300 سے زائد لیپ ٹاپ اور 152 موبائل فون ضبط کیے گئے۔ ان کے مطابق لیپ ٹاپس میں جعلی شناختیں اور کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات ملیں، اور بیرون ملک مقیم افراد بھی اس میں ملوث تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان غیر ملکیوں اور مقامی شہریوں دونوں کو نشانہ بناتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار مالک کے ساتھ ملازمین کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے صرف مالکان پر مقدمہ ہوتا تھا اور ان کے رشتہ دار انہی ملازمین کے ساتھ نئی کمپنی کھول لیتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کم عمر ملازمین کے والدین کو دفعہ 109 کے تحت قانونی عمل میں لایا جائے گا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ گلریز میمن نے نو مرکزی ملزمان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیا، خواتین اور 18 سال سے کم عمر ملزمان کو 5 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا، اور باقی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار شدگان میں 70 سے زائد کم عمر اور 80 سے زائد خواتین ہیں۔ ملزمان پر ابھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔



