اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان پاکستان آنا چاہیں تو حکومتِ پاکستان انہیں ویزا جاری کرنے پر غور کرے گی، تاہم انہیں سفر کی اجازت دینا یا نہ دینا حکومتِ ہند کا فیصلہ ہے۔
ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعے کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا: “اگر وہ پاکستان آنا چاہیں تو حکومتِ پاکستان انہیں ویزا جاری کرنے پر غور کرے گی۔ حکومتِ ہند انہیں سفر کی اجازت دے گی یا نہیں، یہ بالکل الگ معاملہ ہے۔” انہوں نے کہا: “جو بھی اپنے مذہب پر عمل کرنا اور دنیا میں کہیں بھی اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کرنا چاہے، اسے اس کی اجازت ہونی چاہیے۔”
بھگونت مان نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ انہیں 27 نومبر کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی ہے لیکن انہیں شک ہے کہ انہیں جانے دیا جائے گا، اور یہ کہ وہ چاہتے ہیں کہ راہداری کھلنے کی صورت میں پنجاب اسمبلی کا ہر رکن کرتارپور صاحب کی زیارت کرے۔ پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا انہیں لاہور آنے کی دعوت دے چکے ہیں۔
ویزوں پر کوئی پابندی نہیں: سجاد حیدر خان نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستان نے بھارتیوں کو ویزے دینا بند کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا: “کوئی پابندی نہیں ہے۔ پاکستان نے بھارتی شہریوں کو ویزے جاری کرنا بند نہیں کیا۔” 2025 میں پاکستان نے مذہبی مقامات کی زیارت کے 1974 کے پروٹوکول کے تحت بھارت سے آنے والے زائرین کو 9,318 ویزے جاری کیے، جن میں 9,070 سکھوں اور 248 ہندوؤں کو دیے گئے، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں مزید 4,002 ویزے سکھ یاتریوں کو جاری کیے گئے۔
کرتارپور: 2019 میں ایک الگ معاہدے کے تحت کھولی گئی یہ راہداری روزانہ 5,000 تک زائرین کو بغیر ویزا کرتارپور میں گوردوارہ دربار صاحب کی زیارت کر کے اسی دن واپس جانے کی سہولت دیتی ہے۔ بھارت نے 7 مئی 2025 سے اس راہداری کے ذریعے زائرین کی آمد و رفت معطل کر رکھی ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان پابندیاں ہٹتے ہی زائرین کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا: “ذاتی طور پر میں اس بات کا کوئی جواز نہیں دیکھتا کہ 9,000 سکھوں کو واہگہ سرحد پار کرنے دی جائے جبکہ زائرین کو روزانہ کرتارپور صاحب جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ پاکستان کے اندر صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اور زائرین یہاں آ کر دن گزار کر واپس جا سکتے ہیں۔” انہوں نے یاد دلایا کہ راہداری بننے سے پہلے سکھ یاتری سرحد پر کھڑے ہو کر دوربین سے اس مقدس مقام کو دیکھا کرتے تھے۔
ترجمان کے مطابق اس ماہ کے آخر میں ننکانہ صاحب میں بابا گورو نانک دیو جی کے 557ویں یومِ پیدائش کے موقع پر بھارت اور دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں۔ انہوں نے ٹیکسلا اور تختِ باہی کے بدھ مت ورثے سمیت مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پاکستان کی کوششوں کا موازنہ بھارت سے کیا، جہاں ان کے بقول “مذہبی ظلم و ستم ہو رہا ہے” اور مساجد کو “تباہ اور مسمار کیا جا رہا ہے۔”



