پیرس (تھرسڈے ٹائمز) — مریخ کے گرد گردش کرنے والے ایک یورپی خلائی جہاز نے سیارے کے بڑے آتش فشانوں میں سے ایک کی ڈھلوانوں پر تازہ دراڑوں سے گیس خارج ہوتی دیکھی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ اس بات کی علامت ہے کہ مریخ ارضیاتی طور پر مردہ نہیں بلکہ صرف خوابیدہ ہے، اور اس کی سطح کے نیچے اب بھی میگما حرکت میں ہو سکتا ہے۔
یورپی خلائی ایجنسی نے کہا کہ اس کے ایکسومارس ٹریس گیس آربیٹر نے سیارے کے شمالی نصف کرے میں واقع ایک وسیع آتش فشاں البا مونس کے اردگرد دراڑوں کے اوپر ہائیڈروجن کلورائیڈ کی غیر معمولی مقدار کا پتہ لگایا ہے۔ زمین پر یہ گیس عام طور پر میگما سے جڑے سوراخوں سے خارج ہوتی ہے۔ پولش اکیڈمی آف سائنسز کے اسپیس ریسرچ سینٹر کے پروفیسر اور تحقیق کے شریک مرکزی مصنف ڈینیئل میژ نے کہا: “ہماری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مریخ میں اتنی اندرونی حرارت باقی رہی ہے کہ وہ حال ہی تک آتش فشانی سرگرمی کو سہارا دے سکے، اور ممکن ہے اب بھی دیتی ہو۔”
غلط موسم: مریخ کی فضا میں ہائیڈروجن کلورائیڈ عام طور پر شمالی موسمِ سرما میں سب سے زیادہ ہوتی ہے اور گرمیوں میں تقریباً غائب ہو جاتی ہے، جس کا تعلق سیارے پر گرد و غبار اور پانی کے چکر سے ہے۔ لیکن آربیٹر کے انفراریڈ اسپیکٹرومیٹرز کو بار بار ایک استثنا ملا، ہمیشہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی موسم میں: شمالی گرمیوں کے آغاز میں، سردیوں کا پالا بخارات بننے کے فوراً بعد، البا مونس کی دراڑوں کے اوپر۔ پھر آربیٹر کے کیسس کیمرے سے قریب سے دیکھنے پر تازہ اور تنگ دراڑیں نظر آئیں، جن میں سے کچھ سیکڑوں میٹر لمبی ہیں، اور ان کے اردگرد زمین کا رنگ بدلا ہوا تھا۔
الیگزینڈر تروخیموفسکی کی سربراہی میں ٹیم کا خیال ہے کہ ایک خوابیدہ میگما چیمبر سے گیسیں ان دراڑوں کے ذریعے اوپر آتی ہیں، بالکل زمین پر پائے جانے والے فیومرولز یعنی آتش فشانی گیس کے سوراخوں کی طرح۔ سردیوں میں جب درجۂ حرارت منفی 120 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے تو برف ان دراڑوں کو بند کر دیتی ہے، اور گرمیوں کے آغاز میں جب یہ بخارات بنتی ہے تو گیس باہر نکل آتی ہے۔ زمین کا بدلا ہوا رنگ خارج ہونے والی گیس کے چھوڑے ہوئے ذخائر ہو سکتا ہے۔ یہ نتائج 4 نومبر کو جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئے۔
یہ کیوں اہم ہے: مریخ پر نظامِ شمسی کے سب سے بڑے آتش فشاں ہیں، اور مدار سے لی گئی تصاویر کے مطابق ان میں سے کچھ پچھلے چند ملین برسوں میں فعال رہے ہیں۔ سیسمومیٹرز نے مریخ پر زلزلے بھی ریکارڈ کیے ہیں۔ لیکن آج تک لاوے کا کوئی نیا بہاؤ یا آتش فشاں پھٹنے کا کوئی واقعہ نہیں دیکھا گیا۔ اگر میگما اب بھی سطح کے اتنا قریب ہے کہ گیس خارج کر سکے اور زیرِ زمین پانی سے ملے تو یہ ایسے گرم گوشے بنا سکتا ہے جہاں جرثومے زندہ رہ سکیں۔ میژ نے کہا: “البا مونس کے علاقے کی رِستی ہوئی دراڑوں میں مریخ پر زندگی تلاش کرنا بہت معقول ہوگا۔”
آربیٹر نے 2021 میں پہلی بار مریخ پر ہائیڈروجن کلورائیڈ کا پتہ لگایا تھا۔ ایجنسی کے اس مشن کے پروجیکٹ سائنس دان کولن ولسن نے کہا: “یہ نتائج ٹی جی او کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ثابت ہو سکتے ہیں۔”



