اس پروگرام کے تحت 93 لاکھ خاندانوں کو 8750 روہے فی سہ ماہی کے حساب سے بینظیر کفالت کیش ٹرانسفر کی سہولت میسر ہو گی جس کیلئے 346 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ افراطِ زر کی مماثلت سے اس میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ نئے بجٹ میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فروغ دینے کیلئے سنتھیٹک فلامنٹ یارن پر 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے اور اسی طرح پیٹ سکریپ پر بھی کسٹم ڈیوٹی کو 20 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کیا جا رہا ہے جبکہ کپیسیٹرز، ایدھیسیو ٹیپ، مائننگ مشینری، رائس مل مشینری اور مشین ٹولز کے مینوفیکچررز کو بھی کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
نئے بجٹ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار کیلئے وینچر کیپیٹل فنڈ قائم کیا جا رہا ہے جس کیلئے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ آئی ٹی سروسز پر سیل ٹیکس 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کیا گیا ہے جبکہ قرضہ جات کی فراہمی کی ترغیب دینے کیلئے بینکوں کو 20 فیصد کے رعایتی ٹیکس کا استفادہ حاصل ہو گا۔ مزید برآں، 50 ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو پروفیشنل ٹریننگ دینے کیلئے سکیم تیار کی جا رہی ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق بزنس اینڈ ایگریکلچر لون سکیم کے تحت مارک اپ سبسڈی کیلئے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، درآمدی یوریا کھاد پر سبسڈی کیلئے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیلئے صوبائی حکومتوں کی شراکت سے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی کیلئے 10 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال (2023-24) کا بجٹ منظوری کر لیا گیا جس کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں 35 فیصد تک ایڈہاک اضافہ کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے اعلان کے بعد آج ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ 27 روپے کمی کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں بھی کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 8 روپے کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 5 روپے کمی کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 262 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 253 روپے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔