The Thursday Times’ Pakistani news section dives into the pulse of Pakistani politics, offering sharp analysis and timely updates on the decisions and debates shaping the nation’s future, from the corridors of power to grassroots movements.
Interior Minister Mohsin Naqvi and his Qatari counterpart agreed to deepen security cooperation in Doha this week, as Pakistan and Qatar push behind the scenes to salvage the Islamabad MoU and bring Washington and Tehran back to the table.
Kuwait's Amir has formally ratified the defence cooperation agreement with Pakistan by decree, published in the official gazette. The agreement covers training, logistics, military intelligence, defence industries and a joint military committee.
پاکستان ان شا اللہ اس بھنور سے نہ صرف نکلے گا بلکہ ایسی کئی اسکیمز کی تیاری ہورہی ہے جو پاکستان کو دوبارہ حقیقی ترقی کی طرف لے کر جائینگی آنے والے چند ماہ میں دیکھیں گے کہ ان شااللہ پاکستان دوبارہ ترقی کی منزل کی جانب رواں دواں ہوگا۔
مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا کام قوموں کوبحرانوں سے سے نکالنا ہوتا ہے بحرانوں میں دھکیلنا نہیں ہوتا۔
ریفرنس کے مطابق چیف جسٹس نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے متعلق ازخود نوٹس کیس میں اپنی مرضی کا فیصلہ اکثریت کے ساتھ حاصل کرنے کیلئے ایک متنازع بینچ تشکیل دیا۔
جب میں پیمرا کا چیئرمین تھا تو کچھ جرنیلوں اور ججز نے پاکستان کے خلاف سازش تیار کی اور یہ سازش پاکستان کو چین سے دور کرنے کیلئے تھی، یہ پاکستان کو امریکی کیمپ میں شامل کرنے کیلئے تھی، یہ سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے تھی۔
جب الیکشن کا کیس چل رہا تھا تو سننے کو ملا کہ چیف جسٹس جذباتی ہو گئے۔ آپ کو اس وقت بھی جذباتی ہونا چاہیے تھا جب ایک منتخب وزیراعظم کو دفتر سے نکالا گیا، اقامے پر سزا دی، بیٹی کو باپ کا ساتھ دینے پر موت کی چکیوں میں ڈالا، رانا ثناء اللّٰہ پر منشیات اسمگلنگ کیس ڈالا گیا، طلال چودھری پر ظلم و جبر کیا گیا۔
چیف جسٹس وزیراعظم بھی بن چکا ہے، وزیرِ داخلہ بھی بن چکا ہے، وزیرِ دفاع بھی بن چکا ہے، چیف الیکشن کمشنر بھی بن چکا ہے، پارلیمنٹ بھی بن چکا ہے۔ ایک لاڈلے کیلئے ریاست کو مفلوج کر کے سب کچھ تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال افسوسناک ہے، پاکستان دردناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔
عمران خان کے دورِ حکومت میں بیشتر حکومتی معاملات اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور چلاتے تھے، عمران خان انھی دو لوگوں پر انحصار کرتے تھے کیونکہ یہ عمران خان کیلئے آنکھ اور کان تھے۔