spot_img

Columns

News

پاک فوج نے جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا

پاک فوج نے سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے مالک کی درخواست پر انکوائری کا آغاز کر دیا ہے، جنرل (ر) فیض حمید پر الزام ہے کہ انہوں نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف دورانِ ملازمت اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تھا۔

عمران خان کی حکومت سعودی عرب نے گِرائی تھی، شیر افضل مروت

عمران خان کی حکومت سعودی عرب نے گِرائی تھی، سعودی عرب اور امریکہ دو ممالک تھے جن کے تعاون سے رجیم چینج آپریشن مکمل ہوا، سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیلئے معاشی تعاون بھی اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔راہنما تحریکِ انصاف شیر افضل مروت

فیض آباد دھرنا کمیشن ایک مذاق تھا، اس کمیشن کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف

جنرل (ر) باجوہ نے مجھے دھمکی دی ہے کہ میں نے باتیں بیان کیں تو ٹانگوں پر کھڑا نہ ہو سکوں گا، جنرل (ر) باجوہ اور جنرل (ر) فیض حمید فیض آباد دھرنا کمیشن میں پیش نہیں ہوئے، فیض آباد دھرنا کمیشن ایک مذاق تھا، اس کمیشن کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

سعودی عرب پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا، سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل

سعودی عرب پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا، جلد سرمایہ کاری میں پیش رفت ہو گی۔ سعودی وزیرِ خارجہسعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں، سعودی سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار

جنرل (ر) باجوہ میرے خلاف ہیروئن کے جعلی کیس میں براہِ راست ملوث تھا، رانا ثناء اللّٰہ

میرے خلاف ہیروئن کے جعلی کیس میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ براہِ راست ملوث تھا، عمران خان نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اگست میں ہی جنرل (ر) باجوہ کو توسیع دے دی تھی، میاں نواز شریف نے کہا کہ اب محاذ آرائی بےسود ہے۔
spot_img
Newsroomآئین سے انحراف کرنے والے سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف سنگین...

آئین سے انحراف کرنے والے سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے, عرفان قادر

تحریکِ انصاف کی جانب سے اظہارِ یک جہتی فی الوقت چیف جسٹس اور دیگر ہم خیال ججز کی ضرورت ہے کیونکہ جب ججز اپنی قانونی ساکھ کھو بیٹھتے ہیں تو انہیں سیاسی بیساکھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم خیال ججز اور تحریکِ انصاف کا تعلق اب مکمل طور پر بےنقاب ہو چکا ہے لہذا ان دونوں کو اب ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے۔ آئین کے اندر چیف جسٹس کیلئے ایکسٹینشن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

spot_img

سینئر قانون دان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان قادر نے خاتون سیاستدان اعظمیٰ بخاری کے یوٹیوب پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن مجھے انگیج کرنا چاہتی تھی اور یہ وقت کی ضرورت بھی تھی کیونکہ الیکشن کمیشن تذبذب کا شکار تھی جبکہ میں دو ٹوک مؤقف بیان کرنے والا شخص ہوں لہذا میں نے وزیراعظم کے خصوصی معاون کا عہدہ چھوڑ کر الیکشن کمیشن کیلئے وکالت کی ذمہ داری قبول کی۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کیلئے آرٹیکل تریسٹھ (اے) کی غلط تشریح کر کے ہم خیال بینچ نے آئین کو از سر نو تحریر کیا۔ میں نے اس کیس میں نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کی نمائندگی کرتے ہوئے اعجاز الاحسن سے کہا کہ آپ اسپیکر کو بلانے کا اختیار نہیں رکھتے اور اسمبلی کی اندرونی کارروائی میں بھی مداخلت نہیں کر سکتے۔ چیف جسٹس سمجھ گئے کہ عرفان قادر کی بات درست ہے جبکہ اعجاز الاحسن کے پاس اس بارے میں آئینی معلومات نہیں تھیں لہذا چیف جسٹس نے اعجاز الاحسن کو خاموش کروا دیا۔ چیف جسٹس میرا مؤقف سنتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار ہوئے اور رش کو وجہ بتا کر عدالتی کاروائی کو دوسرے کمرے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، دوسرے کمرے کے تمام دروازے بند تھے اور اس قدر گرمی تھی کہ محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم کسی تندور میں بند تھے۔ عرفان قادر نے انکشاف کیا کہ وہ وہاں سے نکل کر رجسٹرار کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہاں شاہ محمود قریشی، فواد چودھری اور اسد عمر سمیت صرف تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے بہت سارے لوگ اس طرح موجود تھے جیسے یہ ان کا سیاسی دفتر ہو حالانکہ ان کی وہاں موجودگی آئین کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس کیس میں سمجھ چکا تھا کہ یہاں انصاف کی توقع رکھنا دیوار سے ٹکرانے کے مترادف ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ ہمارے بائیکاٹ کے باوجود وہاں ایڈیشنل اٹارنی جنرل ایسی پروسیڈنگز میں کیسے شامل رہے۔

پنجاب اسمبلی کے متعلق کیس کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک غیر آئینی فیصلہ کے تحت حمزہ شہباز شریف کی حکومت ختم کی گئی، آئین سے انحراف کیا گیا، اس جرم کے بعد سپریم کورٹ کا احتساب ضرور ہونا چاہیے اور ان ججز کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے۔ موجودہ چیف جسٹس خود کو مظلوم ظاہر کرنے کیلئے غیر متعلقہ ریمارکس دیتے رہتے ہیں۔

سینئر قانون دان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو اپنی غلطی تسلیم کر لینی چاہیے کیونکہ ان کا فیصلہ کسی نے نہیں ماننا، چیف جسٹس کے پاس یہی راستہ ہے کہ وہ فل کورٹ تشکیل دیں مگر وہ ایک سیاسی جماعت کی جانبداری پر بضد ہیں اور ان کی ساس کی آڈیو لیک سے بھی بہت کچھ واضح ہو چکا ہے۔ میں نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ ٹویٹر پر ایک مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے ٹاپ ٹرینڈ بن چکے ہیں لہذا اب آپ کو اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ الیکشن کی تاریخ دینا یا شیڈول جاری کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی نے بتایا کہ جب افتخار چودھری چیف جسٹس تھے اور بھاری بھرکم شخصیت بن چکے تھے تو جوڈیشل کمیشن کی پہلی میٹنگ سے خطاب کے دوران میں نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ ہم سب برابری کی بنیاد پر رکن ہیں، چیف جسٹس ریگولیٹ کریں مگر وہ ہمارے فیصلے نہیں کریں گے۔ میرے عمر عطا بندیال سے پرانے تعلقات ہیں، میں بار بار انہیں نیوٹرل ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا، میں نے سو مختلف ٹیسٹ ایپلائی کر کے عمر عطا بندیال کو شک کا فائدہ پہنچانے کی کوشش کی مگر ہر ٹیسٹ ناکام ہوا۔ میرا اب بھی عمر عطا بندیال کو یہی مشورہ ہے کہ وہ خود کو ان معاملات سے الگ کر لیں۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار کے کچھ سیاسی مقاصد ادھورے رہ گئے تھے جنہیں پورا کرنے کیلئے وہ بندیال صاحب کے پیچھے چھپ کر دوبارہ طلوع ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں ثاقب نثار کے پردادا اور دادا کے متعلق جانتا ہوں اور ان کے والد کو بھی دیکھ چکا ہوں، یہ شریف اور اچھے لوگ تھے مگر ثاقب نثار نے چیف جسٹس بن کر عجیب و غریب کام کیے اور ذہنی طور پر وہ آپے سے باہر ہو چکے تھے۔ ثاقب سیاسی نوعیت کے کیسز میں خود کو بہت خراب کیا۔ موجودہ چیف جسٹس بھی پولیٹیکل انجینئرنگ میں ملوث ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں الیکشن کمیشن کی وکالت کر رہا تھا تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کیسے سپر سیڈ کر سکتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ آپ الیکشن کمیشن کیلئے وکیل کا انتخاب بھی خود کر لیں۔ الیکشن کمیشن کو تین ہم خیال ججز کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے آئین و قانون کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔ میں اگر الیکشن کمیشن کا سربراہ ہوتا تو ان تینوں ججز کو توہین کا نوٹس بھیجتا کہ میرے کام میں مداخلت کیوں کر رہے ہیں۔ آئین کے مطابق ایک جج ہر گز قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججز کو بلانے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں عرفان قادر نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان رپورٹ کرتا ہے اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی وہی حیثیت ہے جو سپریم کورٹ کے کسی جج کی ہے۔ اگر کسی نے پبلک اکاؤنٹ میں کوئی خرد برد کیا ہو تو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی متعلقہ اداروں کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایات جاری کر سکتی ہے، آئین کے مطابق یہ ججز بھی پبلک سرونٹس ہیں لہذا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی انہیں بلا سکتی ہے بلکہ یہ ان ججز کیلئے اپنا مؤقف بیان کرنے کا ایک موقع اور سہولت ہے ورنہ ان ججز کے خلاف پولیس، نیب اور ایف آئی اے سمیت متعلقہ ادارے متحرک ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے پاس کوئی لامحدود پاور نہیں ہے، اگر سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس کے خلاف کوئی ریفرنس آتا ہے تو وہ خود اس کیلئے بننے والے بینچ میں نہیں بیٹھ سکتے۔ آئین میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ اگر چیف جسٹس کے خلاف کوئی ریفرنس آئے تو وہ اس کو روک کر بیٹھ جائیں۔ آئین کے مطابق اگر سپریم کورٹ کے تمام ججز کے خلاف ریفرنسز آ جائیں تو ان ریفرنسز کو بالترتیب سنا جائے گا۔

عرفان قادر نے عمران خان اور تحریکِ انصاف کی جانب سے چیف جسٹس کیلئے ٹویٹر ٹرینڈز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ انصاف کی جانب سے اظہارِ یک جہتی فی الوقت چیف جسٹس اور دیگر ہم خیال ججز کی ضرورت ہے کیونکہ جب ججز اپنی قانونی ساکھ کھو بیٹھتے ہیں تو انہیں سیاسی بیساکھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم خیال ججز اور تحریکِ انصاف کا تعلق اب مکمل طور پر بےنقاب ہو چکا ہے لہذا ان دونوں کو اب ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے۔ آئین کے اندر چیف جسٹس کیلئے ایکسٹینشن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: