اصلی سازش
عین اسوقت جب بیرونی سازش کا بیانیہ پروان چڑھایا جارہا تھا تو اسی وقت اسی بیرونی ملک امریکہ کی پبلک ریلیشنز فرم کو ہزاروں ڈالرز ماہانہ پر اپنے تعلقات کی بہتری کیلئے ہائر کیا گیا۔
عین اسوقت جب بیرونی سازش کا بیانیہ پروان چڑھایا جارہا تھا تو اسی وقت اسی بیرونی ملک امریکہ کی پبلک ریلیشنز فرم کو ہزاروں ڈالرز ماہانہ پر اپنے تعلقات کی بہتری کیلئے ہائر کیا گیا۔

ملک خداداد پاکستان اسوقت اپنی تاریخ کے تلخ اور مشکل ترین وقت سے گزر رہا ہے ملکی تاریخ کا بدترین سیلاب پورے پاکستان میں تباہ کاریاں مچا رہا ہے ملک کے طول و عرض میں سیلاب کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیا ع ہورہا ہے ہزاروں ایکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں لوگوں کی زندگی کی جمع پونجی لٹ گئی ہے گھر بار تباہ ہوچکے ہیں نہ لوگوں کے پاس سر چھپانے کو چھت رہی ہے نہ تن ڈھانپنے کو کپڑے رہے اور نہ ہی بھوک مٹانے کو روٹی کا نوالہ میسر ہے۔

کسی نے تحریک انصاف کے لوگوں نے ہاتھ لگایا میں اسکو اپنے ہاتھوں سے پھانسی دونگا۔

موجودہ حکومت ریاست بچاؤ کا نعرہ لگا کر بھی وہی کچھ کر رہی ھے جس طرح عمران خان چور ڈاکو کا نعرہ لگا کر در حقیقت اس کے الٹ کر رہا تھا۔ آگر ریاست بچاؤ ہی موجودہ اتحادی حکومت کا مقصد و مدعا ھے تو پھر بتایا جائے کہ اس سلسلے میں عملی طور پر کونسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اور اب تک مثبت نتائج کے حصول کا تناسب کیا ھے۔

گاڑی کے ریڈی ایٹر کا مسئلہ ہے اور میں ورکشاپ میں ہوں۔ ڈیئر تم سپر مارکیٹ آ جاو میں گاڑی ٹھیک کروا کے تھوڑی دیر میں پہنچ رہا ہوں۔

یا تحریکِ انصاف کی حکومت کا خاتمہ اندھے کننویں میں چھلانگ لگانے کی سی حرکتِ مذبوحی تھی؟ ہر گز نہیں پی ڈی ایم کی قیادت بہت عرصے سے اس معاملے کا ہمہ جہتی جائزہ لے رہی تھی اور ہر پہلو سے اس کے نتائج اور عواقب پر غور کر رہی تھی۔جیسا کہ سابق وزیر داخلہ اس کا اعتراف کر چکے ہیں کہ انھیں ”بتا“ دیا گیا تھا کہ آپ کی حکومت جارہی ہے۔

دین کے حوالے سے اس کا مطالعہ بھی اچھا تھا. گفتگو کا ہنر بھی کمال کا تھا۔

ستانیز ایک وسیع المعانی لفظ ہے، جس کا ان تمام پاکستانیوں پر اطلاق ہوتا ہے جو پاکستان کے باہر کسی بھی وجہ سے عارضی، مستقل، یا ہمیشہ کے لئے کسی اور ملک کی شہریت لے کر بیرون ملک مقیم ہوں۔

اپنے دور میں ترقی کے بلند دعوے کرتے رہتے والے عمران خان کی باتیں سن کر ہماری سادہ لوح قوم یہ سمجھتی رہی کہ شاید خان صاحب ہماری ترقی کی بات کر رہے ہیں جبکہ اصل میں خان صاحب قومی ترقی کی نہیں گوگی کی ترقی کی بات کرتے تھے۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو احساس ہو گا کہ مسئلہ عمران خان نہیں اصل مسئلہ وہ سوچ ہے جو ہر دس سال کے بعد جمہوریت پر حملہ آور ہوتی ہے،ایسے ہائیبرڈ نظام تشکیل کرتی ہے۔ ایسے مہرے ایجاد کرتی ہے۔
