دو پاکستان
ایک سیاستدان وہ بھی ھے جو پاوں پر پلستر چڑھا کر دہائیاں دے رہا ھے کہ مجھے بچا لواور ایک سیاستدان وہ بھی ھے جس نے آخری سانسیں لیتی اپنی اہلیہ کی پیشانی پر آخری بوسہ دیا اور جیل جانے کےلئے پہلی فلائٹ پکڑ لی۔
ایک سیاستدان وہ بھی ھے جو پاوں پر پلستر چڑھا کر دہائیاں دے رہا ھے کہ مجھے بچا لواور ایک سیاستدان وہ بھی ھے جس نے آخری سانسیں لیتی اپنی اہلیہ کی پیشانی پر آخری بوسہ دیا اور جیل جانے کےلئے پہلی فلائٹ پکڑ لی۔

پچھلے دنوں جنرل باجوہ اور ساتھ اُن کے صاحبزادے کو دُبئی میں مٹر گشت کرتے ہوئے سڑک کراس کرنے کے لیے ریڈ سگنل پر بغیر حفاظتی کمانڈوز کے انتظار کرتے دیکھ کر میرا کمزور دل تو ٹوٹ ہی گیا۔

جنرل پرویز مشرف کی موت پر دیا گیا خلاف معمول اور چونکا دینے والا ردعمل اور مرحوم جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلے کی گونج سے تشکیل پاتا منظر نامہ پروپیگنڈے کی بے ثمر اور بوسیدہ شاخوں سے لٹکے ہوئے ماضی سے دامن چھڑاتا بھی نظر آ رہا ھے۔

عمران خان کا جیل بھرو تحریک کے متعلق اعلان کئی لوگوں کیلئے نیا ہوسکتا ہے لیکن حقیقت میں جیل بھرو تحریک پرعمل درآمد نیا نہیں کیونکہ وہ یہ تحریک تو 2018 سے چلاتے آرہے ہیں جس کیلئے انہوں نے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے لیڈران اور کارکنان کا بھر پور استعمال کیا ہے۔

حکومت کواب سارا بوجھ صرف متوسط اور غریب طبقہ پرہی ڈالنا نہیں چاہیے بالکہ اب اشرافیہ پر بھی اس بوجھ کو منتقل کرنا چاہیے کیونکہ جب تک اشرافیہ اس بوجھ کو نہیں اٹھاتی ملکی معاشی صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی اب شارٹ ٹرم کی بجائے لانگ ٹرم اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

عمران خان کا دو کی بجائے ایک پاکستان اور کرپشن کے خلاف جہاد تو یہ دونوں نعرے نہ صرف محض سیاسی نعرے ثابت ہوئے بلکہ دو پاکستان اور کرپشن کی بنیادوں کو وہ مظبوطی اور پائیداری فراہم کر دی کہ ملک ابھی تک سنبھلنے کا نام نہیں لے رہا

یکم جنوری سے شروع ہونے والے سال نو جہاں کئی نئی اُمیدیں لے کر نکلا وہیں کچھ لوگوں کی اپنی روش پر قائم رہنے کی ضد بھی، ہٹ دھرمی و نااہلی پر قائم سازشى ٹولے نے روایت پر قائم رہتے ہوے ہمیشہ کی طرح سیریس ایشوز کو دبانے کیلیے نان سیریس ایشوز پر توجہ مرکوز کروا کر ملک کى سالميت پر ايک اور وار کرديا ہے۔

ستر برس کی عمر میں اپنی بیٹی کی عمر کی خواتین کے متعلق بازاری زبان استعمال کرنے والے عمران خان کو سدھرنے یا کم از کم اپنی زبان کو لگام ڈالنے میں اور کتنا وقت لگے گا؟

وہ میر جعفر وہ میر صادق وہ مسٹر ایکس وہ مسٹر وائے سے بات چلتے ہوئے اب وہ ایک آدمی تک آن پہنچی ہے بقول شاعر۔
