PPP

ذوالفقار علی بھٹو کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’نشانِ پاکستان‘ سے نوازا گیا
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ملک کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’نشانِ پاکستان‘ سے نوازا گیا۔ ان کی صاحبزادی صنم بھٹو نے صدر آصف علی زرداری سے یہ اعزاز وصول کیا۔

صدرِ مملکت نے 26ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیئے، آئینی ترمیم بطورِ قانون نافذ العمل ہو گئی
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 26ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیئے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم بطور قانون نافذ العمل ہو گئی۔

آئینی ترمیم کیلئے عدالتی اصلاحات کے نکات پر تینوں جماعتوں کا اتفاق ہو گیا ہے، مولانا فضل الرحمٰن
آئینی ترمیم کیلئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ عدالتی اصلاحات کے نکات پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، دیگر نکات پر مزید مشاورت کی جائے گی، آئینی ترمیم میں پارلیمنٹ کو بالاتر رکھا جائے، ایسی ترامیم لائی جائیں جو اداروں میں اصلاحات کا سبب بنیں۔ مولانا فضل الرحمٰن

حکومت کے پاس آئینی ترمیم کیلئے نمبرز پورے ہیں، ہم اتفاقِ رائے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری
حکومت کے پاس آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت موجود ہے مگر حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے اتفاقِ رائے چاہتی ہے، میں بھرپور کوشش کررہا ہوں کہ اتفاقِ رائے قائم ہو لیکن اگر اتفاقِ رائے نہ ہوا تو حکومت کا یہ مؤقف درست ہو گا کہ وقت ضائع نہ کیا جائے۔

ایسا نظامِ عدل وضع کرنا ہے جس میں فردِ واحد جمہوری نظام کو پٹڑی سے نہ اتار سکے، نواز شریف
تمام جمہوری قوتوں کو مل کر پارلیمنٹ کے ذریعہ ایسا نظامِ عدل وضع کرنا ہے جس میں فردِ واحد جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتار کر مُلک و قوم کو سیاہ اندھیروں کے سپرد نہ کر سکے، میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنا درست فیصلہ تھا جس سے مُلک میں جمہوریت کو استحکام ملا۔

شہید بینظیر نے طے کیا تھا کہ آئینی عدالت بنے گی، ہم آئینی عدالت بنا کر رہیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری
آئین کو ایک آنکھ کی لرزش اور ہونٹوں کی جنبش سے اڑایا جاتا رہا، نواز شریف اور یوسف گیلانی کو 58 ٹو بی سے گھر بھیجا گیا، ہم آئینی عدالت بنا کر رہیں گے تاکہ کسی اور وزیراعظم کو تختہ دار پر نہ لٹکایا جائے، آئین کی بالادستی کی جنگ لڑتا رہوں گا۔
آئینی عدالت کا قیام ضروری ہے، ججز کی تعیناتی کا نظام بھی درست کرنا ہو گا۔ بلاول بھٹو زرداری
میثاقِ جمہوریت کے تحت آئینی عدالت قائم ہونی چاہیے جس کا مینڈیٹ آئینی معاملات کی تشریح ہو گا، ججز کی تعیناتی کا نظام بھی درست کرنا ہے، ججز کا کام ڈیم بنانا یا قیمتیں طے کرنا نہیں بلکہ آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہے، ججز تقرری عمل میں شفافیت بےنظیر بھٹو کا مطالبہ تھا۔

عمران خان نے کل اداروں پر جو حملہ کیا، اس کے قانونی نتائج بھگتنا ہوں گے، بلاول بھٹو زرداری
عمران خان نے اپنی سیاست چمکانے کیلئے ہر ادارے پر حملہ کیا، قیدی نمبر 804 نے کل آرمی چیف اور چیف جسٹس پر جو حملہ کیا اسکے قانونی نتائج بھگتنا ہونگے، انکے فارم 45 فارم 47 پراپیگنڈا سے متعلق بڑی کہانی سامنے آنیوالی ہے، یہ عوام کو منہ نہ دکھا سکیں گے۔

پارلیمنٹ سمیت کوئی بھی ادارہ آئین کی بالادستی کے بغیر نہیں چل سکتا، بلاول بھٹو زرداری
عوام نے اپنے نمائندوں کو منتخب کیا مگر یہاں سیاست کو گالی بنا دیا گیا، پارلیمنٹ سمیت کوئی بھی ادارہ آئین کی بالادستی کے بغیر نہیں چل سکتا، مہنگائی کم ہو رہی ہے جس پر حکومت کی تعریف کرنی چاہیے، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہو گا۔
