جب سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے داماد پنجاب میں وزیربنے ہیں کیسزاسلام آباد کی بجائے لاہورمیں لگ رہے ہیں، وزیر قانون اعظم تارڑ

وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ جب سے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے داماد تحریک انصاف پنجاب کابینہ میں وزیر بنے ہیں اسکے بعد سے وہ پٹیشنز اور کیسز جو اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگتی رہی ہیں اور لگنی چاہییں وہ لاہور ہائیکورٹ میں لگنا شروع ہوگئی ہیں۔

A file photo is shown of law minister Azam Tarar.
A file photo is shown of law minister Azam Tarar.

وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ جب سے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے داماد تحریک انصاف پنجاب کابینہ میں وزیر بنے ہیں اسکے بعد سے وہ پٹیشنز اور کیسز جو اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگتی رہی ہیں اور لگنی چاہییں وہ لاہور ہائیکورٹ میں لگنا شروع ہوگئی ہیں۔

وفاقی وزیر قانون نے یہ بات نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں الیکشن کمیشن سے متعلقہ پٹیشنز، توشہ خانہ سے متعلق اور عمران خان کی توشہ خانہ کیس اورفارن فنڈنگ کیس میں نااہلی کے متعلق جیسے کیسز شامل ہیں۔

واضع رہے کہ علی افضل ساہی پنجاب حکومت میں ورکس اینڈ کمیونی کیشن کے وزیر اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے داماد ہیں۔

وزر قانون نے مزید کہا کہ جگہ جگہ یہ بات ہورہی ہے کہ تحریک انصاف اس چیز کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور اب لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں جانے کو ترجیح دیتی ہے۔

وزیرقانون کا مزید کہنا تھا کہ عوامی تاثر یہ بن گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کو اب پٹیشنز اور کیسز میں ریلیف ملتا ہے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو 1

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

  1. Asif Sohail

    First it was PMLN which benefitted from the Lahore High Court now it is PTI. This is called fair justice for all.