عمران خان نے عالمی عدالتوں میں سلمان رشدی کے وکیل جیفری رابرٹسن کو اپنا وکیل مقرر کر دیا

جیفری رابرٹسن اسلام مخالف کتاب "شیطانی آیات" کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف توہینِ مذہب مقدمہ میں نہ صرف اس کا دفاع کر چکے ہیں بلکہ سلمان رشدی کو اپنے گھر میں پناہ بھی دے چکے ہیں۔

رائے دیں
A combined file photo is shown of novelist Salman Rushdie (L), PTI chair Imran Khan (C), and barrister Geoffrey Robertson (R). — FILE/THE THURSDAY TIMES
A combined file photo is shown of novelist Salman Rushdie (L), PTI chair Imran Khan (C), and barrister Geoffrey Robertson (R). — FILE/THE THURSDAY TIMES
یہ تحریر سنیںعمران خان نے عالمی عدالتوں میں سلمان رشدی کے وکیل جیفری رابرٹسن کو اپنا وکیل مقرر کر دیا3 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 2:38

راولپنڈی/لندن—سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے پاکستان کے خلاف عالمی عدالتوں میں مقدمات لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس حوالہ سے بیرسٹر جیفری رابرٹسن کو اپنا وکیل بھی مقرر کر دیا ہے جو عالمی عدالتوں میں عمران خان کی وکالت اور نمائندگی کریں گے جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر تحریکِ انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ سے اس بات کی تصدیق بھی سامنے آ چکی ہے۔

برطانیہ اور آسٹریلیا کی دوہری شہریت کے حامل اور اسرائیل کے ساتھ دیرینہ تعلقات رکھنے والے بیرسٹر جیفری رابرٹسن اسلام مخالف کتاب “شیطانی آیات” کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف توہینِ رسالت کے مقدمہ میں نہ صرف اس کا دفاع کر چکے ہیں بلکہ سلمان رشدی کو اپنے گھر میں پناہ بھی دے چکے ہیں اور اس بات کا اعتراف وہ خود اپنی ایک تحریر میں کر چکے ہیں۔

بیرسٹر جیفری رابرٹسن سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف توہین آمیز نظم شائع کرنے والے “گے نیوز میگزین” کا بھی دفاع کر چکے ہیں اور اس کا اعتراف بھی وہ خود اپنے ہی لکھے ہوئے مقالہ میں کر چکے ہیں، بیرسٹر جیفری رابرٹسن عالمی سطح پر کرپٹ حکمرانوں، عالمی مالیاتی فراڈز میں ملوث افراد، جنگی جرائم کے ملزمان اور دہشتگردی کے مقدمات میں ملزمان کی وکالت کرنے کیلئے مشہور ہیں۔

جیفری رابرٹسن کو اپنا وکیل مقرر کرنے والے سابق کرکٹر عمران خان سائفر کیس میں 13 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر اٹک جیل میں قید ہیں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت اس کیس میں سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی بھی ریمانڈ پر ہیں جبکہ تحریکِ انصاف کے صدر پرویز الٰہی ایم پی او تھری کے تحت اٹک جیل میں قید ہیں۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو فی الوقت کرپشن، قتل، دہشتگردی، بغاوت اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی سمیت سنگین الزامات پر مبنی مقدمات کا سامنا ہے، توشہ خانہ کیس میں انہیں تین برس قید کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے وہ پانچ برس کیلئے انتخابی سیاست میں حصہ لینے کیلئے نااہل بھی قرار دیئے جا چکے ہیں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media