سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کو کالعدم قرار دے دیا

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سماعت کرنے والے بینچ نے آرمی ایکٹ کی ان تمام شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیا ہے جن کے تحت فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے۔

جارٍ الترجمة… 0 / 3 اقرأ النص الأصلي

A file photo is shown of Jinnah House at Lahore on May 9. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of Jinnah House at Lahore on May 9. — FILE/THE THURSDAY TIMES
یہ تحریر سنیںسپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کو کالعدم قرار دے دیا1 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 1:21

اسلام آباد—سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں کو منظور کر لیا، جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے متفقہ طور پر فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دے دیا۔

ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس مظاہر نقوی شامل تھے۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات کے تحت گرفتار 102 افراد کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں کیا جائے اور اگر کسی شہری کا فوجی عدالت میں ٹرائل شروع ہو گیا ہے تو اس کو بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سماعت کرنے والے بینچ نے آرمی ایکٹ کی ان تمام شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیا ہے جن کے تحت فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے۔

تھرسڈے ٹائمز کورٹ رپورٹر

تھرسڈے ٹائمز کے کورٹ رپورٹر کی جانب سے عدالتوں اور قانون کی خبریں۔

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media