سارہ انعام قتل کیس: عدالت نے مجرم شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا دی

سارہ انعام قتل کیس: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے فیصلہ سنا دیا، مجرم شاہنواز امیر کو سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا، شریک ملزمہ ثمینہ شاہ کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کر دیا گیا۔

ژباړه روانه ده… 0 / 3 اصلي متن ولولئ

A file photo is shown of Shahnawaz Amir (L) and Sarah Inam (R). — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of Shahnawaz Amir (L) and Sarah Inam (R). — FILE/THE THURSDAY TIMES
یہ تحریر سنیںسارہ انعام قتل کیس: عدالت نے مجرم شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا دی2 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 1:34

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سارہ انعام قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مجرم شاہنواز امیر کو سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

سیشن جج ناصر جاوید رانا نے فیصلہ سناتے ہوئے شاہنواز امیر کو مجرم قرار دیا، مجرم شاہنواز امیر کو سزائے موت اور 10 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی گئی جبکہ مجرم کی والدہ اور شریک ملزمہ ثمینہ شاہ کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کر دیا گیا ہے۔

فیصلہ سنائے جانے کے وقت مقتولہ سارہ انعام کے والدین عدالت میں موجود تھے جبکہ مجرم شاہنواز امیر، ان کے والد صحافی ایاز امیر اور والدہ و شریک ملزمہ ثمینہ شاہ بھی عدالت میں موجود تھے۔

عدالت کی جانب سے 5 دسمبر 2022 کو ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی جبکہ فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر رواں برس 9 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے۔

سارہ انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے گزشتہ برس 22 اور 23 ستمبر کی درمیانی رات چک شہزاد کے ایک فارم ہاؤس میں سر پر جم میں استعمال ہونے والے ڈمپل مار کر قتل کر دیا تھا۔

تھرسڈے ٹائمز کورٹ رپورٹر

تھرسڈے ٹائمز کے کورٹ رپورٹر کی جانب سے عدالتوں اور قانون کی خبریں۔

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media