پاکستان کی چاول کی برآمدات میں متاثر کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، فنانشل ٹائمز

پاکستان کی چاول کی برآمدات میں متاثر کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، دنیا میں چاول کے چوتھے بڑے برآمد کنندہ پاکستان نے رواں برس 10 ملین ٹن پیداوار اور 3 اعشاریہ 6 ارب ڈالرز مالیت کے ساتھ عالمی سطح پر اپنا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر لیا۔

Join the conversation

Translating from the Urdu… 0 of 3 Read the original

An illustration is shown of basmati rice being exported from Pakistan. — MONTAGE/THE THURSDAY TIMES
An illustration is shown of basmati rice being exported from Pakistan. — MONTAGE/THE THURSDAY TIMES
Listen to this articleپاکستان کی چاول کی برآمدات میں متاثر کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، فنانشل ٹائمز3 min · device voice0:00 / 3:01

لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کے مطابق پاکستان کی چاول کی برآمدات میں متاثر کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، چاول کی برآمدات میں دنیا کے چوتھے بڑے ملک پاکستان نے رواں برس اپنا حصہ بڑھا کر 10 فیصد کر لیا ہے جو کہ گزشتہ برس تک 7 فیصد تھا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان دنیا میں چاول کا چوتھا بڑا برآمد کنندہ ہے جس کی چاول کی برآمدات رواں برس مئی تک 11 ماہ میں کم و بیش 5 اعشاریہ 6 ملین ٹن تک پہنچ گئیں جو کہ ایک سال قبل اسی مدت کے دوران ہونے والی چاول کی برآمدات کی نسبت تقریباً 60 فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان کی چاول کی برآمدات کی مالیت رواں برس مئی تک 11 مہینوں کے دوران 3 اعشاریہ 6 بلین ڈالرز تک پہنچ گئی جو کہ جولائی 2022 سے مئی 2023 تک 2 بلین ڈالرز تھی، یہ تیزی گزشتہ برس انڈیا کی جانب سے چاول کی مخصوص اقسام پر برآمدی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کے بعد ہوئی۔

گزشتہ برس انڈیا نے پارلیمانی انتخابات سے قبل مون سون کے پیدواری اثرات کے باعث سپلائی میں کمی کے خدشات سے نمٹنے اور بڑھتی ہوئی گھریلو قیمتوں پر قابو پانے کیلئے چاول کی مخصوص اقسام پر برآمدی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے بعد پاکستان ایک کم لاگت والے متبادل کے طور پر ابھرا جبکہ افریقہ میں قیمتوں کے حوالہ سے بہت سے حساس اداروں نے اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے پاکستان کا رخ کیا۔

پاکستان نے رواں برس مارچ کے آخر تک 9 ماہ کے دوران تقریباً 10 ملین ٹن چاول پیدا کیے جبکہ ایک سال قبل اتنی ہی مدت کے دوران پاک میں چاول کی پیدوار 7 اعشاریہ 3 ملین ٹن تھی، پاکستان میں چاول کی پیداوار 2022 میں موسم سرما کے دوران تباہ کن سیلاب کے باعث کم تھی تاہم رواں برس چاول کی پیدوار سیلاب سے ایک برس قبل والی پیداوار سے بھی تقریباً 20 فیصد زیادہ ہے جو کہ متاثر کن ہے۔

برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستان میں ونڈ فال ریونیو اور پیداوار میں بحالی نے 240 ملین آبادی والے ملک کیلئے غیر ملکی زرمبادلہ کا ایک انتہائی ضروری ذریعہ فراہم کیا ہے جو دوہرے ہندسے کی افراطِ زر، معاشی نمو کے مسائل اور بڑھتے ہوئے عوامی قرضوں سے نبرد آزما ہے۔

نئی دہلی کی جانب سے جولائی میں برآمدی پابندیوں کے نفاذ کے بعد عالمی سطح پر چاول کی قیمتیں دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، افریقہ کے غریب ممالک جو عام طور پر انڈیا سے بڑی مقدار میں چاول خریدتے ہیں وہ خاص طور پر متاثر ہوئے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق برآمدی پابندی کے باوجود انڈیا عالمی سطح پر چاول کا سب سے بڑا سپلائر ملک ہے، اس کے بعد تھائی لینڈ اور ویتنام ہیں جبکہ چوتھے نمبر پر پاکستان ہے، پاکستان نے مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا کر تقریباً 10 فیصد کر لیا ہے جو کہ گزشتہ برس تک 7 فیصد تھا۔

TT Monitoring Desk

Reports from The Thursday Times' in-house monitoring desk.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media