کیا خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقے کی علیحدہ انکوائری ہو گی، جسٹس جمال مندوخیل

فارم 45 یا فارم 47 میں فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہو گا، پوری انکوائری کرنا ہو گی۔ کیا خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کی انکوائری کیلئے آرڈیننس لانا پڑا تھا، یہ 184 کے تحت عدالت کا دائرہِ اختیار نہیں۔

Join the conversation

Translating from the Urdu… 0 of 3 Read the original

ORIGINAL/THE THURSDAY TIMES
ORIGINAL/THE THURSDAY TIMES
Listen to this articleکیا خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقے کی علیحدہ انکوائری ہو گی، جسٹس جمال مندوخیل4 min · device voice0:00 / 3:40

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سپریم کورٹ میں آئینی بینچز کے رکن جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ اگر فارم 45 یا فارم 47 دونوں میں فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہو گا، فارم کو جانچنے کیلئے پوری انکوائری کرنا ہو گی، کیا خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقے کی علیحدہ انکوائری ہو گی، ہر امیدوار اپنے حلقہ کے الزامات کا بتائے گا، پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کا مسئلہ اٹھا تھا، انکوائری کیلئے آرڈیننس لانا پڑا تھا، کارروائی کا اختیار ہمارے پاس نہیں تھا اس لیے آرڈیننس بنانا پڑا، یہ 184 کے تحت عدالت کا دائرہِ اختیار نہیں ہے۔

عمران خان کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست پر سماعت

سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سابق چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف درخواست پر سماعت کی ہے جس میں عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر تیاری کیلئے مہلت دے دی گئی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل حامد خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 184 تھری میں دائرہِ اختیار دیا گیا ہے یا نہیں!

اگر فارم 45 یا فارم 47 دونوں میں فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہو گا، فارم کو جانچنے کیلئے پوری انکوائری کرنا ہو گی۔ جسٹس جمال مندوخیل

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن جانبدار ہے تو متعلقہ فارم پر جانا چاہیے تھا، آپ کو ہر امیدوار کے نوٹیفکیشن کیلئے عدالت کو بتانا ہو گا، اگر فارم 45 یا فارم 47 دونوں میں فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہو گا، فارم کو جانچنے کیلئے پوری انکوائری کرنا ہو گی۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ حامد صاحب آپ آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں۔
وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ میں صرف اعتراضات دور کرنے آیا تھا، آپ میرٹ پر بات کر رہے ہیں۔

کیا خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ جسٹس جمال مندوخیل

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقے کی علیحدہ انکوائری ہو گی، ہر امیدوار اپنے حلقہ کے الزامات کا بتائے گا، پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کا مسئلہ اٹھا تھا، انکوائری کیلئے آرڈیننس لانا پڑا تھا، کارروائی کا اختیار ہمارے پاس نہیں تھا اس لیے آرڈیننس بنانا پڑا، یہ 184 کے تحت عدالت کا دائرہِ اختیار نہیں ہے۔

عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک ازخود نوٹس نہیں لے سکی۔ وکیل حامد خان

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ یہ اس عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک ازخود نوٹس نہیں لے سکی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ سینیئر وکیل ہیں، الفاظ کا چناؤ دیکھ کر کریں۔

آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اعتراضات آپ کی استدعا کو دیکھ کر ہی ختم کریں گے۔
وکیل حامد خان نے کہا کہ جو 8 فروری کو ہوا تھا ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملہ پر ڈپٹی سپیکر نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارا اس کمیٹی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

سماعت ملتوی

بعدازاں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اڈیالہ جیل میں بند سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل حامد خان کو مزید تیاری کیلئے مہلت دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔

TT Court Reporter

Courts and the law, from The Thursday Times' court reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media