اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے قیام کی دوسری سالگرہ کے موقع پر پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ایک نئے ثالثی نظام کے ذریعے فری لانسرز کے لیے پے پال کے ذریعے بین الاقوامی ادائیگیوں کی سہولت شروع کر دی۔ اس اقدام کے تحت 10,000 تک فری لانسرز بیرونِ ملک کے گاہکوں سے ادائیگیاں براہِ راست اپنے مقامی بینک اکاؤنٹس میں وصول کر سکیں گے، اور انہیں انفرادی پے پال اکاؤنٹس کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یہ پیش رفت مالی شمولیت کو بڑھانے اور غیر ملکی لین دین کو آسان بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ پے پال کے اقدام کے ساتھ ساتھ حکومت نے 10,000 سے زائد ای-روزگار مراکز قائم کیے ہیں اور ملک بھر میں 43 آئی ٹی پارکس فعال کر دیے ہیں، جبکہ اسلام آباد اور کراچی میں بڑے مراکز زیرِ تعمیر ہیں۔ ان مراکز کا مقصد ہر سال تقریباً 50,000 فری لانسرز کو بااختیار بنانا ہے۔
SIFC کے ڈیجیٹل روڈ میپ نے گوگل، مائیکروسافٹ اور سسکو جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جس سے آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اب 3.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ چین کے ساتھ پانچ سالہ ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ صنعتی جدت اور مہارتوں کی ترقی کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
اس رفتار کو سہارا دینے کے لیے حکومت نے خصوصی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس متعارف کرائے ہیں اور آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کے لیے ڈالر کا 50 فیصد اپنے پاس رکھنے کی پالیسی نافذ کی ہے۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے عالمی ٹیکنالوجی منڈی میں مسابقت بڑھے گی۔
15 لاکھ سے زائد فعال فری لانسرز اور بڑھتے ہوئے بین الاقوامی روابط کے ساتھ SIFC پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک سنجیدہ دعویدار کے طور پر سامنے لا رہی ہے۔



