وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، ایران نے اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر دی

وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو، ایران نے رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر دی۔ مسعود پزشکیان نے عارضی جنگ بندی میں پاکستانی کوششوں کو سراہا اور پاکستانی عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ترجمہ ہو رہیا اے… 0 / 3 اصل لکھت پڑھو

Prime Minister Shehbaz Sharif spoke with Iranian President Masoud Pezeshkian, during which Tehran confirmed it will join the Islamabad talks and praised Pakistan’s diplomatic role in the temporary US-Iran ceasefire. — FILE
Prime Minister Shehbaz Sharif spoke with Iranian President Masoud Pezeshkian, during which Tehran confirmed it will join the Islamabad talks and praised Pakistan’s diplomatic role in the temporary US-Iran ceasefire. — FILE
یہ تحریر سنیںوزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، ایران نے اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر دی2 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 1:51

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو، ایران نے رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر دی۔

پرائم منسٹر آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے جبکہ یہ خوشگوار اور دوستانہ بات چیت تقریباً 45 منٹس تک جاری رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرنے اور رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی پیشکش قبول کرنے پر ایرانی قیادت کی دانشمندی اور دور اندیشی کو سراہا۔ شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کیلئے بھی تعظیم کا اظہار کیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور امریکا و ایران عارضی جنگ بندی میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ مسعود پزشکیان نے پاکستانی عوام کیلئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کی جبکہ دونوں راہنماؤں نے باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media