نئی دہلی (تھرسڈے ٹائمز) — بھارت کے سینئر اپوزیشن رہنما ششی تھرور نے کہا ہے کہ بھارت کو امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کی ثالثی کا "جشن منانا" چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن سے نئی دہلی کو بھی اتنا ہی فائدہ ہوتا ہے جتنا اسلام آباد کو، اور اسے ایسے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے جس میں ایک کا فائدہ دوسرے کا نقصان سمجھا جائے۔
بھارت کے ایک مقامی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے جنگ بندی پر بھارت کے سرکاری ردعمل کو "پختہ" اور "دانشمندانہ" قرار دیا اور زور دیا کہ علاقائی استحکام اور توانائی کا تحفظ جغرافیائی و سیاسی رقابت سے زیادہ اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں کمی کا باعث بننے والی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، خواہ انہیں کوئی بھی ملک آگے بڑھائے۔
ششی تھرور نے کہا: "ہر چیز میں ایک کا فائدہ دوسرے کا نقصان نہیں ہوتا۔" انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کے اقدامات تنازع کے بجائے امن میں معاون ثابت ہوئے ہیں تو "ہمیں واقعی جشن منانا چاہیے۔" انہوں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرنے والے بھارتی حکومت کے اپنے بیان کو حکمتِ عملی کے تحت ضبط و تحمل اور علاقائی ذمہ داری کا ثبوت قرار دیا۔
ششی تھرور نے اس پیش رفت کو عالمی سفارت کاری کی وسیع تر نئی صف بندی کے تناظر میں پیش کیا اور کہا کہ بھارت کو احتیاط اور روابط میں توازن رکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی کو "ایک دلچسپی رکھنے والے ہمسائے کے طور پر نظر رکھنی چاہیے، نہ کہ ایک ناقد کے طور پر۔" انہوں نے نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ تنازع کی شدت میں کمی عالمی توانائی منڈیوں کو مستحکم کرے گی اور بھارتی مفادات کا تحفظ کرے گی۔
اسی کے ساتھ ششی تھرور نے پاکستان کے کردار کی زیادہ محتاط تعبیر بھی پیش کی۔ انہوں نے اس امکان کی طرف اشارہ کیا کہ اسلام آباد نے امن کوششوں کے بنیادی معمار کے بجائے سفارتی رابطہ کار کا کردار ادا کیا ہو۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ششی تھرور نے کہا کہ ہو سکتا ہے امریکا نے پاکستان کو "غیر جانبدار تیسرے فریق کے چہرے" کے طور پر استعمال کیا ہو، تاکہ واشنگٹن اور تہران دونوں رعایت دیتے ہوئے دکھائی دیے بغیر پیچھے ہٹ سکیں۔
“In other words, Pakistan might be a diplomatic fig leaf for the Americans rather than the real initiator of the peace,” he said. “But still, the fact that Pakistan is there doing this in Islamabad has to be respected.”
Tharoor also pointed to geopolitical realities shaping Pakistan’s involvement, including its shared border with Iran and the risk of refugee flows or regional instability. “Pakistan has what you might call skin in the game,” he noted, arguing that this provided Islamabad with a clear incentive to pursue de-escalation.
The Congress leader further highlighted shifting global dynamics, warning that the erosion of the traditional “rules-based international order” has created a vacuum in which regional powers must assume greater diplomatic responsibility. He urged India to position itself as a credible voice of the Global South in shaping a new international framework.
“We can’t afford the world to crumble,” Tharoor said, cautioning against a “law of the jungle” in which smaller nations become vulnerable to superpower competition. He argued that India should emerge from the crisis with renewed diplomatic initiative, contributing to regional stability and broader global governance.
His remarks come amid growing attention to Pakistan’s diplomatic engagement with Washington and Tehran, including contacts involving U.S. President Donald Trump and Pakistan’s army chief Asim Munir. While Tharoor acknowledged the optics of such interactions, he reiterated that India’s interests lie in supporting any process that reduces the risk of conflict.
For New Delhi, he said, the outcome should not be viewed as a strategic setback but rather as an opportunity to reinforce regional stability. “Why should we disparage it?” Tharoor asked, adding that peace in the region serves the interests of all neighbouring countries.



