واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ نے فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو پینٹاگون کے اعلیٰ ترین فوجی منصوبہ ساز کے عہدے سے ہٹا دیا ہے، ان الزامات کے دوران کہ انہوں نے میڈیا کو خفیہ معلومات لیک کیں۔
نامعلوم ذرائع کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کے مطابق سلویا، جو جوائنٹ اسٹاف میں حکمتِ عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے سربراہ تھے، کو بدھ کو برطرف کیا گیا۔ سی بی ایس نیوز (CBS News) نے پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ جنرل صحافیوں کو خفیہ معلومات دینے کے بارے میں تین پولی گراف ٹیسٹوں میں ناکام رہے، جبکہ فاکس نیوز نے بتایا کہ مبینہ لیکس کا تعلق ایران کے ساتھ اور یوکرین میں جنگوں سے تھا۔
جوائنٹ اسٹاف کے ایک ترجمان نے پہلے ایک بیان جاری کیا جس میں سلویا کی رخصتی کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا، لیکن بعد میں اسے واپس لے لیا اور کہا: ”مزید جائزے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ بیان میں پوری صورتِ حال کی مناسب عکاسی نہیں ہوئی۔“
’زیرو ٹالرنس‘
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایکس پر کہا کہ محکمۂ دفاع ”خفیہ معلومات کے دانستہ، غیر مجاز افشا کو ہرگز برداشت نہیں کرتا“ اور اس نے ”حساس معلومات کے تحفظ کے لیے ضروری عملے سے متعلق کارروائی“ کی ہے۔
سلویا وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے دور میں ہٹائے جانے والے تازہ ترین سینئر افسر ہیں، جنہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کئی جرنیلوں اور ایڈمرلز کو ہٹایا ہے۔ ان کی رخصتی ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ اب بھی جنگ میں ہے، ایک ایسا تنازع جس پر پینٹاگون کے مطابق 47 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آ چکی ہے۔



