واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام (CENTCOM)، کے سربراہ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی آپشنز پر بریفنگ دی، جبکہ گزشتہ ہفتے کے دوران 10 سے زیادہ امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارے جنوبی اسرائیل کے فضائی اڈوں پر اترے۔
اخبار کے مطابق ایڈمرل بریڈ کوپر نے یہ آپشنز وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین ڈین کین کی موجودگی میں پیش کیے۔ روئٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن اور اسرائیل 3 نومبر کے امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کی ایک ”مختصر مگر شدید کارروائی“ پر غور کر رہے ہیں، جس میں توانائی کی تنصیبات، جوہری تنصیبات اور میزائل و ڈرون کے ذخائر کو نشانہ بنایا جائے گا، تاہم ٹرمپ اب بھی فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
نیواتیم اور عودا کے لیے کارگو پروازیں
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اوپن سورس فلائٹ ڈیٹا پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں نے بتایا کہ زیادہ تر ٹرانسپورٹ پروازیں ٹیکساس کے شہر ایل پاسو میں بگز آرمی ایئر فیلڈ سے اسرائیلی فضائیہ کے نیواتیم اور عودا اڈوں کے لیے روانہ ہوئیں۔ ان کا سامان معلوم نہیں تھا لیکن خیال ہے کہ اس کا تعلق خطے میں امریکی فضائی دفاع کو مضبوط بنانے سے تھا۔ اردن، سعودی عرب، قطر اور کویت میں امریکی اڈوں کے لیے بھی پروازوں کی اطلاعات ملیں، اور وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو بتایا کہ ٹیکساس سے ایک پیٹریاٹ میزائل بیٹری بھیجی جا رہی ہے۔
’اسے کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں بننے دیں گے‘
نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو بتایا، ”اگر آپ کو ایک اور نہ ختم ہونے والی جنگ کی فکر ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ اسے کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں بننے دیں گے۔ وہ امریکہ کے مقاصد حاصل کریں گے، اور پھر ہم ان دوسرے کاموں پر توجہ دیں گے جو ہم کر رہے ہیں۔“
ایران نے وینس کا ایک خط موصول ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن اس کا جواب نہیں دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ رابطہ طبی سامان کے بارے میں تھا اور اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے وینس کو امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ پاکستان اور قطر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی قیادت کر رہے ہیں۔



