نئی دہلی (تھرسڈے ٹائمز) — بھارت نے اپنی بحریہ کے لیے اگلی نسل کے آٹھ اسٹیلتھ کارویٹس کی تیاری کے 40 ہزار کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 4.5 ارب ڈالر) سے زائد مالیت کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس سے بحرِ ہند بھر میں کارروائیوں کے لیے تیز رفتار، کثیر المقاصد جنگی جہازوں کی ایک نئی کلاس شامل ہو جائے گی۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے سلامتی نے اس ہفتے اس پروگرام کی منظوری دی۔ سرکاری ملکیت کے اداروں، کولکتہ کے گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز اور گوا شپ یارڈ لمیٹڈ، کے ساتھ جلد معاہدے پر دستخط متوقع ہیں؛ صنعتی رپورٹس کے مطابق جی آر ایس ای (GRSE) پانچ اور گوا شپ یارڈ تین جہاز تیار کرے گا۔
بحریہ کے مقامی ڈیزائن پر تیار کیے جانے والے یہ کارویٹس تقریباً 30 ناٹ کی رفتار حاصل کر سکیں گے اور انہیں آبدوز شکن جنگ، سطحِ آب پر جنگ، نگرانی و جاسوسی اور ساحلی دفاع کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ان کی فراہمی 2030 تک شروع ہونے کی توقع ہے۔
یہ بحریہ کے چار کمورتا کلاس کارویٹس کے ساتھ شامل ہوں گے، جو بنیادی طور پر آبدوزوں کا شکار کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، اور ان کا مقصد بڑے فرنٹ لائن ڈسٹرائرز اور فریگیٹس پر دباؤ کم کرنا ہے۔ دفاعی خریداری کونسل نے پہلی بار جون 2022 میں 36 ہزار کروڑ بھارتی روپے کی تخمینی لاگت پر اس منصوبے کی منظوری دی تھی۔
یہ منظوری بڑے بحری آرڈرز کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے کیونکہ نئی دہلی اپنے سطحی بیڑے میں توسیع کر رہا ہے، اور بحریہ بحرِ ہند اور بحیرۂ عرب میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے۔



