تہران (تھرسڈے ٹائمز) — ایران کی مسلح افواج نے جمعرات کو کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد چار ٹینکروں میں آگ لگ گئی، یہ امریکی فوج کے اس اعلان کے ایک دن بعد ہوا کہ اس نے آبی گزرگاہ کے مرکزی بحری راستے صاف کر دیے ہیں۔
اسلامی انقلابی گارڈ کور، آئی آر جی سی (IRGC)، نے ایک بیان میں کہا، ”گزشتہ 24 گھنٹوں میں خلاف ورزی کرنے والے تین آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کے غیر مجاز جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے پھٹ گئے اور ان میں آگ لگ گئی“، اور مزید کہا کہ جہازوں نے اپنے ریڈار اور نیوی گیشن نظام بند کر رکھے تھے اور انتباہ کو نظر انداز کیا۔ بعد میں ایرانی فوج نے کہا کہ ”ایک ممنوعہ اور خطرناک علاقے“ میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آبنائے کے مشرق میں ایک چوتھے ٹینکر میں بھی آگ لگ گئی۔
اے ایف پی (AFP) کے مطابق یہ واضح نہیں کہ یہ واقعات کب پیش آئے یا ٹینکروں پر کن ممالک کے پرچم تھے۔ برطانوی بحری ادارے یو کے ایم ٹی او (UKMTO) نے کہا کہ اسے ایک بادبانی کشتی میں آگ لگنے اور ڈوبنے، اور آبنائے سے نکلتے ہوئے ایک ٹینکر کے ”کسی نامعلوم چیز سے ٹکرانے“ کی اطلاعات ملی ہیں۔
بارودی سرنگوں پر تنازع
امریکی سینٹرل کمانڈ کا اصرار ہے کہ ”مرکزی گزرگاہوں“ میں موجود تمام بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ جہازوں کو داغی گئی اشیا سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آئی آر جی سی کے ترجمان حسین محبی نے امریکہ کو چیلنج کیا کہ وہ ”ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کا اپنا دعویٰ بیانات سے نہیں بلکہ آزاد شواہد سے ثابت کرے“۔
28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے سے آمد و رفت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جہاں سے عام طور پر دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ٹینکروں کو حفاظتی حصار فراہم کیا ہے، اور اتوار کو کہا کہ اس نے گرمیوں سے اب تک خلیجی ممالک کو ہرمز کے راستے 1.5 ارب بیرل تیل برآمد کرنے میں مدد دی ہے۔
اس رکاوٹ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند ہیں، جس کا اثر پاکستان کے ایندھن کے بل پر پڑ رہا ہے، جہاں اس ہفتے ڈیزل کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی۔



