تہران (تھرسڈے ٹائمز) — ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ ایران کا امریکہ سے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، تاہم انہوں نے پہلی بار تصدیق کی کہ تہران کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہوا ہے اور واشنگٹن کے رابطے کو ”ایک مثبت قدم“ قرار دیا۔
عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا، ”اس وقت امریکی حکام سے ملاقاتوں کا کوئی منصوبہ نہیں، اور اس کے برعکس کوئی بھی قیاس آرائی محض میڈیا کا اندازہ ہے۔ موجودہ حالات میں ایران امریکیوں سے ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتا؛ ایران کی شرائط واضح ہیں، اور ان کے بارے میں ثالثوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔“
انہوں نے کہا کہ وینس کے پیغام کا ”بغور جائزہ لیا گیا اور اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں اس پر غور کیا گیا“۔ انہوں نے کہا، ”اگر پیغام بھیجنے سے واشنگٹن کا مقصد اختلاف پیدا کرنا ہے تو یہ امریکہ کی سابقہ غلطیوں میں ایک اور غلط قدم کا اضافہ ہوگا۔ لیکن بات چیت کا آغاز کرنے اور وسیع تر مفاہمت تک پہنچنے کی امریکی فریق کی کوشش کو ایک مثبت قدم سمجھا جاتا ہے۔“
عراقچی نے کہا کہ ان کا ایک معاون مشاورت جاری رکھنے کے لیے دوحہ گیا ہے، جبکہ ایک دن پہلے قطری ثالثوں نے تہران میں مذاکرات کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثوں نے جوہری معاملے پر تجاویز پیش کی تھیں، جن کا ایران ”دوسرے مرحلے کے حصے کے طور پر“ جائزہ لے رہا ہے، اور مزید کہا: ”قطری اور پاکستانی ثالث ہماری شرائط کے بارے میں مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔“ واشنگٹن سے کوئی بھی مذاکرات براہِ راست ہوں گے یا بالواسطہ، اس کا انحصار ان شرائط کے پورا ہونے پر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھولنے کی ایرانی تجویز کا ٹائم ٹیبل بھی مختصر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”قطری فریق نے ایرانی تجویز پر عمل درآمد کی مدت کم کر کے پانچ دن کرنے کی تجویز دی۔ اس مرحلے پر ہم ایک ایسی تجویز تک پہنچ گئے ہیں جو عمل درآمد کی مدت کم کر کے دو دن کر دیتی ہے“، اور مزید کہا کہ ایران ”تمام صورتوں کے لیے تیار“ ہے۔
قطری ثالث پاکستان کی حمایت سے اس ہفتے تہران واپس آئے، تاکہ منگل کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہونے سے روکی جا سکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، پابندیوں میں نرمی نہیں کی جاتی اور اسے مزید حملوں کے خلاف ضمانتیں نہیں ملتیں، وہ اپنے جوہری پروگرام پر بات نہیں کرے گا، جبکہ ایرانی ارکانِ پارلیمان جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبرداری پر زور دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ جنگ ”جلد ختم ہو جائے گی“ لیکن واشنگٹن کو اس بات کی ضمانت چاہیے کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔



