منامہ (تھرسڈے ٹائمز) — شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے ہفتے کو کہا کہ شام پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو باہم منسلک کرنے والے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے، جو اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ یہ اتحاد اپنے تین بانی ارکان سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
سرکاری شامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق الشیبانی نے بحرین میں منامہ ڈائیلاگ سکیورٹی کانفرنس سے کہا، ”مکہ اتحاد میں شام کی شمولیت کا جائزہ لینے کے لیے اس وقت بات چیت جاری ہے۔“
7 اگست کو دستخط ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی بھی رکن پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے، اور پاکستان کے فوجی ترجمان نے اس ہفتے کہا کہ معاہدے کے الفاظ نئے ارکان کی راہ میں رکاوٹ نہیں، اور مزید کہا کہ ”اجتماعی دفاع اور علاقائی امن کا مشترکہ وژن رکھنے والا کوئی بھی“ خوش آمدید ہے۔
الشیبانی نے کسی بھی جارحیت کے خلاف خلیجی ریاستوں کے لیے دمشق کی حمایت کا اظہار کیا اور ان پر میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی، جبکہ سعودی عرب کو حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”جغرافیہ تقدیر ہے، اور انضمام ایک انتخاب۔ ہم نے اپنی سرزمین کو خوشحالی اور مفادات کے تبادلے کا پل بنانے کا انتخاب کیا ہے، اور ہم شام کو ہمسایہ ممالک کے لیے خطرے کا پلیٹ فارم بنانے کے خلاف ایک دیوار بن کر کھڑے ہیں۔“
انہوں نے شامی سرزمین پر بار بار کے اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی، کہا کہ مقبوضہ گولان کی پہاڑیاں شامی سرزمین ہیں، اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس ہفتے معاہدے کو ایک ”اہم سنگِ میل“ قرار دیا۔



