یروشلم (تھرسڈے ٹائمز) — ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائر گولان نے اتوار کو خبردار کیا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو گزشتہ ہفتے کے غیر فیصلہ کن انتخابات کے بعد اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے ایران پر نئے حملے کو استعمال کر سکتے ہیں، اور انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد متبادل حکومت تشکیل دیں۔
"ایران کے ساتھ لڑائی کے ایک اور دور کا امکان بڑھتا جا رہا ہے،" فوج کے سابق نائب سربراہ گولان نے ایکس پر لکھا۔ "ہم ایران کے ساتھ بار بار کی لڑائی کے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کس حد تک ناکام ہو چکے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے پاس ایک اور جنگ کی قیادت کے لیے عوام کا اعتماد، "اخلاقی جواز، حتیٰ کہ بنیادی صلاحیت" بھی نہیں۔
گولان نے اپنی اپیل اپوزیشن کے ساتھی رہنماؤں گادی آئزنکوٹ، ایویگدور لیبرمین، نفتالی بینیٹ اور یائر لیپڈ سے کی، اور کہا کہ نئی حکومت کا قیام "انتہائی اہم ہے، کیونکہ اسرائیل کی سلامتی اور اس کے شہریوں کا تحفظ داؤ پر لگا ہے"۔
ان کا یہ انتباہ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ منگل کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں، جبکہ قطری اور پاکستانی ثالث آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تہران کی شرائط پیش کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے اس موقع کو ایرانی خطرے کے خاتمے کا "تاریخی اور یکتا موقع" قرار دیا ہے۔
120 رکنی کنیسٹ میں کوئی بھی اتحاد اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل نہیں کر سکا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں، یہودی اپوزیشن جماعتوں کو 48 اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں ملیں، جس کے باعث عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت، قومی حکومت یا نئے انتخابات، تینوں راستے کھلے ہیں۔ ہفتے کو تل ابیب میں ہزاروں افراد نے ریلی نکالی اور مطالبہ کیا کہ عرب جماعتیں اپوزیشن اتحاد میں شامل ہوں۔ 76 سالہ نیتن یاہو نگران وزیراعظم کے طور پر برقرار ہیں، جبکہ ان کے خلاف رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کے الزامات پر بدعنوانی کا مقدمہ چل رہا ہے، اور غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے سلسلے میں وہ 2024 سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو مطلوب ہیں۔



