بیجنگ (تھرسڈے ٹائمز) — چینی ٹیکنالوجی گروپ علی بابا نے اعلان کیا ہے کہ اس کا کیو وین (Qwen) اے آئی ماڈل چین میں آئی فونز پر ایپل انٹیلی جنس کا حصہ بنایا جائے گا، جس سے ایپل کے لیے اپنی بڑی منڈیوں میں سے ایک میں اپنے اے آئی فیچرز پیش کرنے کی راہ کھل گئی ہے۔
علی بابا کے مطابق یہ فیچر 4 نومبر سے آئی او ایس (iOS) ڈیولپر بیٹا میں آزمائش کے مرحلے میں داخل ہوگا اور دسمبر میں آئی او ایس 27.3 کے سرکاری اجرا کے ساتھ صارفین تک پہنچے گا۔ کیو وین سری (Siri)، رائٹنگ ٹولز (Writing Tools) اور وژول انٹیلی جنس (Visual Intelligence) میں کام کرے گا۔ یہ صرف ان ہم آہنگ آئی فونز پر دستیاب ہوگا جن کی ڈیوائس لوکیشن اور ایپل اکاؤنٹ کا خطہ، دونوں چین پر سیٹ ہوں۔
صارفین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اس انضمام کو آن کریں یا نہیں اور کون سی معلومات شیئر کریں۔ علی بابا نے کہا کہ ان کی درخواستیں اور تیار کردہ جوابات اس کے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ چیف ایگزیکٹو ایڈی وو نے کہا کہ اس شراکت داری سے چینی صارفین کو اے آئی پر مبنی نئی خدمات میسر آئیں گی۔
بیجنگ یونیورسٹی آف پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشنز کے اے آئی ماہر وانگ شیاؤجے نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ صارفین کے لیے ہارڈ ویئر بنانے والی کسی بڑی عالمی کمپنی نے چینی مارکیٹ میں کسی چینی بڑے لسانی ماڈل کو اپنے بنیادی سسٹم سطح کے اے آئی کے طور پر اپنایا ہے۔
غیر ملکی اے آئی ماڈلز کو چین میں کام کرنے کے لیے مقامی منظوری درکار ہوتی ہے، جس کے باعث ایپل انٹیلی جنس دیگر ممالک میں اجرا کے بعد سے چین سے باہر رہی ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرمایہ کار اے آئی کی دوڑ کی لاگت پر سوال اٹھا رہے ہیں، اور اس ہفتے انٹیل اور نیسڈیک میں تیزی سے گراوٹ آئی جبکہ الفابیٹ کو ایک دن میں 500 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔



