ڈیٹرائٹ (تھرسڈے ٹائمز) — ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ہیلی اسٹیونز نے اتوار کو مشی گن سے اپنی جماعت کے سینیٹ کے امیدوار عبدالسید کی حمایت واپس لے لی اور ان کے ریپبلکن حریف مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے دو روز پہلے سامنے آیا، جن میں فیصلہ ہو سکتا ہے کہ سینیٹ پر کنٹرول کس کا ہو گا۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے رہنما چک شومر نے اسے “گھناؤنی غداری” قرار دیا۔ مشی گن ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین کرٹس ہرٹل نے کہا کہ اسٹیونز ریاستی جماعت کی “موجودہ رکن نہیں” اور “نہ آئندہ ہوں گی”۔ آٹھ سال سے ان کے چیف آف اسٹاف جسٹن جرمن نے کہا کہ وہ اور ان کے کانگریسی عملے کے کئی افراد “صدمے اور دل شکستگی” کے عالم میں مستعفی ہو گئے ہیں۔
اسٹیونز اتوار کی صبح ڈیٹرائٹ کے ایک چرچ میں راجرز کے ساتھ نظر آئیں۔ ہفتے کی رات گئے تک وہ ساتھیوں کو بتا رہی تھیں کہ وہ السید کے ساتھ کھڑی رہیں گی، جنہوں نے اگست کے پرائمری انتخاب میں انہیں تقریباً ایک فیصد پوائنٹ کے فرق سے ہرایا تھا۔
راجرز کے پہلو میں کھڑے ہو کر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “عبدل نے بالکل واضح کر دیا تھا کہ میرا ان کی مہم میں خیرمقدم نہیں، انہیں میری ضرورت نہیں، وہ مجھے وہاں نہیں چاہتے تھے۔” انہوں نے مزید کہا: “میں ڈیموکریٹس سے منہ نہیں موڑ رہی۔ یہ صرف ایک ووٹ ہے۔ جب آپ بار بار نفرت دیکھتے ہیں تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوتی۔ مجھے اب بھی پارٹی سے محبت ہے۔”
اسی رات ٹیلی ویژن پر جب ان سے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: “میں نے اپنا ارادہ بدل لیا۔” مشی گن سے ان کی ساتھی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ڈیبی ڈنگل نے اس انٹرویو کو “تکلیف دہ” قرار دیا اور کہا: “اتوار کو جو کچھ ہوا، اسے دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔”
السید، جو امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہوں گے، نے اس معاملے کو اہمیت نہیں دی۔ رکنِ کانگریس جم کلائی برن کے ساتھ ایک چرچ میں جلسے کے موقع پر انہوں نے صحافیوں سے کہا: “آخر میں، میں ہیلی اسٹیونز کے بارے میں نہیں سوچتا۔ اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
راجرز نے کہا کہ اسٹیونز نے “مشی گن کو اولیت دینے میں ہمت اور بہادری” کا مظاہرہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے انہیں “بہت بہادر” قرار دیا۔
اسرائیل کے معاملے پر اختلاف
پرائمری کے بعد سے دونوں کے درمیان اختلافات چلے آ رہے ہیں، اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کے معاملے پر۔ السید اسرائیل کے بڑے ناقد ہیں جبکہ ااسٹیونز اس کی پُرزور حامی ہیں، اور اسرائیل نواز لابی گروپ ایپک (AIPAC) نے ان کی حمایت میں کئی ملین ڈالر خرچ کیے۔ آخری دراڑ ایک بیرونی ڈیجیٹل اشتہار پر پڑی جس میں اشیائے خور و نوش کی بلند قیمتوں کا ذمہ دار اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد کو ٹھہرایا گیا تھا۔ ااسٹیونز نے مطالبہ کیا کہ وہ اس اشتہار کو مسترد کریں۔ ان کی مہم نے کہا کہ اس اشتہار سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اور انہوں نے کہا کہ وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے، پھر جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اتوار کو ااسٹیونز کو اپنے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ “توجہ بٹانا نہیں چاہیں گے”۔
ااسٹیونز کا کہنا ہے کہ السید نے ان یہودی اور سیاہ فام ووٹروں کو مطمئن کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے جنہوں نے پرائمری میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ مشی گن کی ریاستی ایوانِ نمائندگان کے رکن نوح آربٹ سمیت ڈیموکریٹس نے، جنہوں نے کہا کہ انہیں السید کی بیان بازی پر تحفظات ہیں، پھر بھی ان کے اقدام کو مسترد کر دیا، اور آربٹ نے کہا کہ اس کا جواب “راجرز کے گھناؤنے اور خطرناک اسلاموفوبیا کو گلے لگانا نہیں ہو سکتا”۔
راجرز اور ٹرمپ نے آخری دنوں میں السید کو خطرناک بنا کر پیش کیا، جس میں ٹرمپ نے انہیں “جہادی” قرار دیا اور دونوں نے بغیر کسی ثبوت کے ان پر اخوان المسلمین سے روابط کا الزام لگایا، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایک سروے میں ریاست کے 38 فیصد ووٹروں نے کہا کہ وہ مسلمان امیدوار کو ووٹ دینے کا امکان کم رکھتے ہیں۔
مشی گن کیوں اہم ہے
مشی گن کی نشست پر کوئی موجودہ سینیٹر امیدوار نہیں اور یہ اس وقت ڈیموکریٹس کے پاس ہے، اور یہ سینیٹ کا واحد کانٹے کا مقابلہ ہے جس میں وہ دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ اگر راجرز یہ نشست چھین لیتے ہیں تو ڈیموکریٹس کو ایوان پر قبضے کے لیے چار کے بجائے پانچ ریپبلکن نشستیں جیتنا ہوں گی۔
گزشتہ ہفتے کے ایک سروے میں السید 50 فیصد کے مقابلے میں 48 فیصد کے ساتھ آگے تھے، جو شماریاتی غلطی کی گنجائش کے اندر ہے۔ مشی گن میں پولنگ بدھ کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے اور 7 بجے بند ہوگی۔



